76

یہ کیسی آزادی ہے؟

پشاور میں سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے لگائے گئے کیمپوں کے دورے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ کیسی آزادی ہے کہ ہم معاشی طور پر عالمی مالیاتی ادار ے آئی ایم ایف کے غلام ہیں۔وزیر اعظم کی یہ بات ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کیلئے بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ نے پوری قوم کی نیندیں حرام کر کے رکھ دی ہیں۔ ایک طرف غربت اور بیروزگاری ہے تو دوسری طرف بجلی کے ناروا بلوں نے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے، کچھ اس طرح کے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ غریب نے بجلی کا بل دیکھا اور صدمے سے اس کا ہارٹ فیل ہو گیا۔ وزیر اعظم نے درست کہا کہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ 75 سال میں ہم نے ملک کیلئے کیا کیا؟۔ وزیر اعظم نے جس مسئلے کی بات کی ہے اس کے حل کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، غریبوں کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔ عمران خان کی حکومت نے تین سال میں غریبوں کو ریلیف دینے کی بجائے تکلیف دی، عمران خان کی تبدیلی کے بعد لوگوں کو ریلیف ملنا چاہئے تھا مگر ریلیف تو کیا ملنا تھا تکلیف اور بھی بڑھ گئی ہے۔ وزیراعظم سیلاب زادہ علاقوں میں خود دیکھ رہے ہیں کہ غریبوں کی کتنی مشکلات ہیں ۔ وزیر اعظم پہلی مرتبہ ٹانک ، ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے پر گئے، ضروری تھا کہ وہاں کیلئے وفاقی حکومت کی طرف سے ترقیاتی پیکیج اور سیلاب زدگان کی بھر پور امداد کا اعلان ہوتامگر ایسا نہیں ہوا،وزیر اعظم شہباز شریف نے صرف خیبرپختونخوا کی حکومت کو سفارش کی کہ سیلاب زدگان کی امداد میں اضافہ کریںحالانکہ اگر خیبرپختونخوانے وسیب کے اضلاع ٹانک ، ڈی آئی خان کی مدد کی ہوتی تو یہ دن ہی نہ دیکھنے پڑتے۔ ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ میں بستی احمدانی کے فلڈ ریلیف کیمپ کے متاثرین نے احتجاج کرتے ہوئے انڈس ہائی وے کو بستی احمدانی کے مقام پر بند کر دیا تھا۔ وزیر اعلیٰ ذاتی طو رپر اس مسئلے کو دیکھیں کہ سیلاب زدگان طرح طرح کی مشکلات کا شکار ہیں۔ گزشتہ روز میں خود ان سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر گیا تھا ، ہزاروں خاندان انڈس ہائی وے پر بے سروسامانی کی حالت میں موجود تھے۔ رود کوہیوں کے سیلاب نے سینکڑوں دیہات اور ہزاروں گھروں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے، لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں، ضروری ہے کہ ان پر مقدمات قائم کرنے کی بجائے ان کی مدد کی جائے۔ آج کل دن ایسے ہیں کہ کسی طرف سے خوشی کی خبریں کم ملتی ہیں، پاک فوج نے بلوچستان میں سیلاب زدگان کی مدد کی مگر حادثہ پیش آ گیا، پاک فوج کے ہیلی کاپٹر حادثہ پر ہر آنکھ نم ہے۔ پاک فوج ہیلی کاپٹر حادثہ کے شہداء کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، وزیر اعظم شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی ، اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ پاک فوج کے سولجر عظیم مشن پر تھے، سرحدوں کا دفاع ہو ، دہشت گردی ہو یا قدرتی آفات پاک فوج کے جوان ہمیشہ آگے آگے نظر آتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ آئی ایس پی آر نے حادثے کا باعث موسم کی خرابی بتایا ہے۔ پاک فوج کے سدرن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی، انجینئرنگ کور کے بریگیڈیئر محمد خالد، پائلٹس میجر سعید احمد، میجر محمد طلحہ منان اور کریو چیف نائیک مدثر فیاض کی شہادت کسی قومی سانحہ سے کم نہیں۔ صدر ، وزیر اعظم سمیت ملک کے تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے اس حادثے پر سخت صدمے اور تعزیت کا بجا طور اظہار کیا ہے ، سرائیکستان صوبہ محاذ کے رہنما کرنل (ر) عبدالجبار عباسی و دیگر رہنمائوں نے وسیب کی طرف سے شہداء کو سلام پیش کیا ہے۔ خبریں بہت ہیں، جہاں دکھوں کی خبریں ہیں وہاں کبھی اچھی خبر بھی پڑھنے کو مل جاتی ہے ۔ ایک خبرکے مطابق پنجاب آرٹس کونسل کے زیراہتمام قدیم ترین تہذیب ہاکڑائی تہذیب کے مختلف پہلوئوں کونمایاں کرنے کے لیے چولستان فیسٹیول کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،یہ فیسٹیول کمشنربہاول پورڈویژن راجہ جہانگیرانورکی زیرنگرانی منعقدہوگا، تاریخی اورثقافتی پس منظر کی عکاسی کرنے والا یہ فیسٹیول ایک ہفتے پرمحیط ہوگا۔اس ضمن میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ چولستان کے نام سے فیسٹیول ہوتے رہتے ہیں ، الحمراء لاہور میں بھی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے ، چولستان جیب ریلی ایک عالمی ایونٹ بن چکی ہے مگر اصل مسئلہ چولستان کی پیاس اور چولستان کے مسائل کا حل ہے۔ چولستان سے ملحقہ سرحدی علاقہ راجستھان کا ہے ، ہمسایہ ملک نے وہاں پانی بھی مہیا کر دیا ہے اور صحر کے لوگوں کے مسائل بھی بہت حد تک حل کر دئیے ہیں جبکہ چولستان میں حل ہونے کے بجائے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں،چولستان میں ناجائز الاٹمنٹوں کے علاوہ غیر قانونی شکار اور فارمنگ کے نام پر عرب شیوخ کو چولستان کی زمینوں کی فراہمی قابل توجہ مسائل ہیں۔ کمشنربہاولپور ڈویژن راجہ جہانگیر انور وسیب اور چولستان سے محبت کرنیوالے افسر ہیں، ان کی طرف سے چولستان فیسٹیول کا انعقاد قابل تحسین ہے، اس کے ساتھ چولستان کی تاریخ ، ثقافت اور اس کے آثار پر تاریخ چولستان کے حوالے سے کتاب کی اشاعت از حد ضروری ہے۔ فیسٹیول میں ہاکڑا تہذیب پر سیمینارز، مذاکرے، قدیم دستکاریاں، لوک موسیقی، تہذیبی نمائش اورلوک ادب سمیت درجنوں پروگراموں کا انعقاد مثبت عمل ہے۔ فیسٹیول کیلئے بہاول پور ڈویژن سے تعلق رکھنے والے تاریخ دان، دانشور، ماہرین آثارقدیمہ اور ماہر بشریات پرمشتمل کمیٹیوں کے ذریعے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے ۔ڈائریکٹرجنرل پنجاب آرٹس کونسل ثمن رائے کی ہدایات کی روشنی میں بہاول پور ریاست کے ثقافتی و تہذیبی ورثے کو دنیا بھر میں اجاگرکرنے کا موقع ملے گا،اس فیسٹیول کا فائدہ چولستان کے باشندوں کو بھی ملنا چاہئے کہ یہ اس بناء پر ممکن ہے کہ فیسٹیول میں مقامی دستکاریوں کے سٹال لگوائے جائیں اور چولستان کے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے حکومت خود خصوصی اقدامات کرے۔

 

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز