3301

دنیا کی فوڈ باسکٹ "سیاہ مٹی" کا تحفظ

سیاہ مٹی دنیا کی زرخیز ترین مٹی کہلاتی ہے اور اسے قابل کاشت اراضی کا "جائنٹ پانڈا" کہا جاتاہے۔دنیا میں سیاہ مٹی کے چار علاقے ہیں جن میں سے ایک چین کے شمال مشرقی میدان میں ہے۔یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران چین نے اس قیمتی سیاہ مٹی کے تحفظ کے لیے کوششوں کو نمایاں طور پر آگے بڑھایا ہے اور ایسی پالیسیاں ترتیب دی گئی ہیں جو نہ صرف اس نایاب ورثے کے لیے سودمند ہیں بلکہ چین کی ماحول دوستی کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔انہی اقدامات کے سلسلے کو مزید دوام بخشتے ہوئے ابھی حال ہی میں یکم اگست سے ملک میں سیاہ مٹی کے تحفظ کا قانون بھی باضابطہ نافذ العمل ہو چکا ہے تاکہ سیاہ مٹی کے پائیدار استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔اس سے ایک تو یہ واضح ہوتا ہے کہ چینی سماج میں فطرت سے محبت کو کس قدر اہمیت حاصل ہے اور دوسرا یہ پہلو بھی نمایاں ہے کہ چینی قوم غذائی تحفظ کی خاطر اناج کے وسائل کو محفوظ رکھنے اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ ملک کی اعلیٰ مقننہ کی جانب سے منظور کیا گیا یہ قانون سیاہ مٹی کی حفاظت کے لیے حکومت اور زرعی اسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داریوں کی وضاحت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ سیاہ مٹی ثمر آور اور زرخیز ہے لیکن اس بات کو یاد رکھیں کہ یہ قدرتی تحفہ خطرے سے بھی دوچار ہے۔قانون ان لوگوں کے لیے بھی سخت سزا کا تعین کرتا ہے جو سیاہ مٹی کے علاقوں میں آلودگی یا مٹی کے کٹاؤ کا سبب بنتے ہیں اور سرکاری فارموں پر زور دیتا ہے کہ سیاہ مٹی کے تحفظ کی کوششوں میں زیادہ سے زیادہ تعاون کی بدولت ایک عمدہ مثال قائم کی جائے۔ زرعی اعتبار سے سیاہ مٹی کی اہمیت کی بات کی جائے تو اس کا شمار ایسی معدنی مٹی میں کیا جاتا ہے جس کی سطح کا افق سیاہ ہوتا ہے، یہ مٹی کم از کم 25 سینٹی میٹر گہرائی میں نامیاتی کاربن سے بھرپور ہوتی ہے۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے جاری کردہ ایک وائٹ پیپر کے مطابق، قدرتی حالات میں سیاہ مٹی کی صرف ایک سینٹی میٹر موٹی تہہ بننے میں 200 سے 400 سال لگتے ہیں۔اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں ایک اندازے کے مطابق 725 ملین ہیکٹر پر محیط سیاہ مٹی کو دنیا کی"خوراک کی ٹوکری"یا فوڈ باسکٹ سمجھا جاتا ہے۔ چین میں سیاہ مٹی کا کل رقبہ 1.09 ملین مربع کلومیٹر ہے۔ یہ شمال مشرقی صوبوں حے لونگ جیانگ ، جی لان اور لیاوننگ کے وسیع علاقوں سمیت شمالی چین کے اندرون منگولیا خود اختیار علاقے کے کچھ حصوں میں پائی جاتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ سیاہ مٹی ملک کی مجموعی اناج کی پیداوار کا تقریباً ایک چوتھائی پیدا کرتی ہے اور چین میں خوراک کی فراہمی کی ڈھال ہے۔ تاہم، غیر معقول کاشت، کھیتی باڑی، اندھا دھند کھدائی اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے، سیاہ مٹی "پتلی"، "سخت" اور "کم" ہوتی جا رہی ہے۔ گزشتہ 60 سالوں کے دوران چین کی مٹی میں پائے جانے نامیاتی مادوں میں کچھ علاقوں میں تہائی سے 50 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے اور سیاہ مٹی میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی کم ہوئی ہے۔ زرعی حکام کے مطابق، کچھ علاقوں میں، سیاہ مٹی کی تہہ 20 سینٹی میٹر سے کم موٹی ہے اور سال میں 1 سے 2 ملی میٹر تک کم ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں سیاہ مٹی کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔یہ نیا قانون جہاں سیاہ مٹی کے تحفظ، استعمال، انتظام اور بحالی کی سرگرمیوں کی وضاحت کرتا ہے وہاں اس نایاب زرعی وسیلہ کے تحفظ اور استعمال کے لیے قانونی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے تحفظ کی پالیسیوں اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کی بدولت اناج کی پیداوار بڑھانے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سیاہ مٹی کے تحفظ کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ اس ضمن میں سیاہ زمین پر محفوظ کھیتی باڑی کے لیے ایک ایکشن پلان (2020-2025) جاری کیا گیا ہے۔چین کی کوشش ہے کہ 14ویں پانچ سالہ منصوبہ (2021-2025) کے دوران 6.67 ملین ہیکٹر سیاہ مٹی کے تحفظ کو مکمل کیا جائے۔ اس دوران کاشتکاری کے معیار کو بہتر بنایا جائے گا اور زمین میں نامیاتی مادے میں 10 فیصد اضافہ ہوگا۔یوں یہ پاکستان سمیت دیگر زرعی ممالک کے لیے بھی ایک سبق ہے جہاں زرعی رقبے کی جگہ کنکریٹ اور سیمنٹ کے بلاکس لے رہے ہیں۔ اگر تحفظ خوراک کو یقینی بنانا ہے اور زرعی پیداوار میں خودکفالت حاصل کرنی ہے تو زرعی وسائل کا تحفظ اولین شرط ہے۔

بشکریہ اردو کالمز