60

فرنود عالم اور ساحل عدیم میں ایک مکالمہ کے تاثرات ۔

 

مذہبی فکر خواہ اس کا تعلق دنیا کے کسی بھی مذہب سے ہو ایک مذہبی انسان کو کوتاہ فکر یا کوتاہ اندیش کیوں بنا دیتی ہے؟

 ایک مذہبی انسان چند مخصوص فکری دھاروں کا اسیر ہونے کے بعد فکری زعم کا شکار کیوں ہو جاتا ہے؟

 کیا مخصوص فکری رویہ یا دائرہ زندگی کے تمام پہلوؤں کا ترجمان ہوسکتا ہے؟

 مذہبی فکر ایک عام سے انسان کو خوامخواہ کے پرہیزگاری واہمے کا اسیر کیوں بنا دیتی ہے؟

 مذہبی انسان میں چڑچڑاپن اور خود کو الگ تھلگ تصور کرنے کا رویہ کیوں جھلکنے لگتا ہے؟ مذہبی انسان طالبعلمانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے دعویٰ کی زبان میں کیوں بات کرنے لگتا ہے؟

 کیا مذہبی انسان حتمی سچ جان لینے کے واہمے کا شکار ہوجاتا ہے؟

 مذہبی طبقہ نرگسیت کا شکار کیوں ہوجاتا ہے؟

 آخر اس حقیقت کی کیا منطق ہو سکتی ہے کہ دائرہ مذہب میں اپنی مرضی سے داخل تو ہوا جاسکتا ہے نکلا نہیں جا سکتا؟ مذہبی ذہن تنقید کو خوش دلی سے قبول کرنے کی بجائے جارحانہ رویہ یا بدتمیزی پر کیوں اتر آتا ہے؟

 اس قسم کے سوالات ہر اس ذی شعور کے دماغ کی اسکرین پر ابھرتے یا پیدا ہوتے ہیں جو مذہب فہمی کی غرض سے کسی مذہبی فہم رکھنے والے شخص سے مکالمہ یا اس کی گفتگو غور سے سننے کی سعی کرتا ہے بالکل اسی قسم کے سوالات میرے تخیل میں بھی کلبلانے لگے تھے جب میں نے فرنود عالم اور ساحل عدیم کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی۔ دونوں صاحبان علم کی طرح میرا بیک گراؤنڈ بھی انتہائی مذہبی رہا ہے اور ایک طویل عرصہ تک اسی قسم کے سوالات سے جوجتا رہا ہوں،جب تشفی نہ پائی تو تھک ہار کر خاموشی اختیار کرنے کے بعد "ذرا ہٹ کے" سوچنا شروع کیا اور کافی حد تک غیر روایتی ادب پڑھا تو ایک جھٹکے سے آنکھ کھلنے کے بعد اس حقیقت کا ادراک ہوا جس کا میں ڈاکٹر خالد سہیل کے الفاظ کی صورت میں اکثر حوالہ دیتا رہتا ہوں۔

"دنیا میں اتنے ہی سچ ہیں جتنے انسان اور اتنی ہی حقیقتیں ہیں جتنی دیکھنے والی آنکھیں"

 اب میں مذاہب عالم کا مطالعہ انسانوں کے ابتدائی ورثے کے طور پر کرتا ہوں اور تمام مذاہب کا دل سے احترام کرتا ہوں مگر جو ابتدائی سوالات میں نے اٹھائے ہیں ان پر مذہبی فکر کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔ شاید مذہبی فکر ابھی بھی جدید بغداد کے دور میں کھوئی ہوئی ہے حالانکہ اس دور کو صدیاں بیت چکیں اور اس سنہری دور میں بھی ہماری اہمیت کن بنیادوں پر تھی وہ بھی ایک الگ موضوع ہے، اگر اس پر کھل کے بات کی جائے تو بہت سوں کو ناگوار گزرے گا۔ کیونکہ جو ہمیں دکھایا جاتا ہے اس کی اہمیت عاشقانہ آوارگی یا عظمت رفتہ کے خوامخواہ کے گن گانے سے زیادہ نہیں ہے حقائق بہت تلخ ہیں۔ زندگی کے انتہائی قیمتی ماہ وسال مذہبی فکر کے بیچ گزارنے والے تقریبا ہر انسان کو مختلف کیفیات سے گزرنا پڑتا ہے اور ان کیفیات کو جانچنے کی سعی کرتے ہوئے وہ بانیانِ مذہب سے سوالات پوچھتا ہے تو اسے مشکوک نظری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کچھ ایسا عجیب و غریب رویہ دیکھنے کو ملتا ہے جس سے اس بندے کے اندر مذہب سے بیزاری کا رویہ جنم لینے لگتا ہے اور وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ جو روایتی فکر حتمی سچ کی دعوے دار ہے وہ میرے سوالات سے اتنی نالاں اور پریشان کیوں ہو جاتی ہے؟ جو فلسفہ سوال کی چوٹ نہ سہہ سکے یا بوکھلاہٹ کا شکار ہوجائے تو اس کی سچائی پر بھی درجنوں سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آخر یہ سوال تو پوچھنا بنتا ہے کہ مذہب کو اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لئے ہر نئی فکر کا سہارا یا موجودہ دور کے  ا بزروایبل علم سائنس کا سہارا کیوں لینا پڑتا ہے؟علماء پھدک پھدک  کر یہ گیان کیوں بانٹ رہے ہوتے ہیں کہ جو سائنس آج بتا رہی ہے وہ تو الہامی کتابوں میں پہلے سے درج تھا، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس علم پر صدیوں سے آپ کا اجارہ تھا اور موجودہ وقت میں بھی آ پ کا یہی دعویٰ ہے تو آپ ان حقائق سے بے خبر کیوں رہے ہیں؟ حقیقت کو ماننے میں کیا حرج ہے کہ آپ نااہل تھے اور آج بھی غامدی کے علاوہ آپ کے دامن میں کیا ہے جو جدید و قدیم فکر کو ٹانکے لگا کر پیش کرنے کی سعی کرتا رہتا ہے اور اپنی اس کاوش میں غامدی صاحب کس حد تک کامیاب رہے ہیں وہ بھی ایک الگ موضوع ہے مگر یہ طے ہے کہ آپ کو آج بھی اپنی فکر کو وارنش کرنے کے لیے جدید مغربی فکر و اصطلاحات کی ضرورت رہتی ہے۔  بالکل یہی بے بسی مجھے ساحل عدیم کے رویے میں نظر آئی۔چہرے سے ہنسی و بشاشت غائب، اکڑ و تکبر کا ایک مخصوص مذہبی انداز، بے ربط و تسلسل سے عاری ایک کنفیوژڈ شخص کی لایعنی سی گفتگو کا شاخسانہ تھی شاید مذہبی فکر کے نزدیک یہی حق سچ کی دلیل ہو جبکہ دوسری طرف فرنود عالم کا نپاتلا انداز، مختصر مگر بامعنی جملوں میں اظہار خیال اور سب سے بڑھ کر نظریاتی طور پر کلیئر ٹی آ ف تھاٹ بالکل واضح تھا۔ نوجوان نسل کا مذہب سے بیزار ہونے کے سوال کے جواب میں ساحل کا کہنا تھا کہ

 "زندگی کے ابتدائی پندرہ سالوں میں والدین جو اپنے بچے کے ذہن میں فکس کر دیتے ہیں اسی بنیاد پر وہ اپنا اگلا لائحہ عمل تشکیل دینے لگتا ہے، اگر ابتدائی تعلیمات کافی گہری ہوں گی تو وہ کبھی بھی مذہب بیزار نہیں ہوگا"

 انتہائی بودہ سا جواب ہے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔میرے سمیت ہزاروں زندگی کے ایسے طالب علم ہوتے ہیں جو مذہبی فکر سے تسلی بخش جواب نہ ملنے کی وجہ سے ایک الگ راستے کا انتخاب کر لیتے ہیں اور اپنے تئیں مذہب کو سمجھنے کی سعی کرتے رہتے ہیں مگر درمیان میں سے مولوی کو خارج کر دیتے ہیں 

 اور مذہب کو اپنے اورخالق کے بیچ کا معاملہ متصور کر لیتے ہیں۔ فرنود عالم کے اس موقف میں کافی جان ہے۔

 "کہ ہر انسان کی اپنی احساس کی ایک دنیا ہوتی ہے اس میں بھی ایک پیاس ہوتی ہے جسے وہ بجھانا چاہتا ہے، اس کے لیے انسان بہت سے طریقے اختیار کرتا ہے جس میں آرٹ، فن، موسیقی اور تصوف جیسے راستے ہوتے ہیں۔ جب تک آپ مذہب یا خدا کے وجود کو خود کے بیچ رکھتے ہیں اور تزکیہ نفس کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں تو آپ یہ اقرار کر رہے ہوتے ہیں کہ دشمن میری ذات کے اندر ہے اور آ پ اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔جب آ پ اپنے مذہب و خدا کو پولیٹیکل مذہبیت کی طرف لے جاتے ہیں تو پھر یہ تصور جنم لینے لگتا ہے کہ دشمن آپ کے اندر نہیں بلکہ باہر موجود ہے جس کا آپ نے مقابلہ کرنا ہے۔ اس قسم کا یدھ لڑنے کے لئے جب آپ میدان میں اترتے ہیں تو آپ دوسروں کی مورل پولیسنگ کرنے لگتے ہیں، دوسروں کے گریبانوں میں بلا جھجک جھانکنے لگتے ہیں، ذاتی زندگیوں میں مداخلت کرنے لگتے ہیں اور دیواریں پھلانگنے لگتے ہیں"

 ان جملوں میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں جبکہ ہٹ دھرموں کے لیے بے مقصد طرز کی گفتگو۔لیکن اس حقیقت سے آج کون انکار کرسکتا ہے کہ مذہب کو بطور سیاست کے اپنانے والوں نے اس دھرتی پر کیا کیا گل کھلائے ہیں اور کیا کیا ظلم کی داستانیں رقم کی ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں ہے۔ ساحل عدیم اور فرنود عالم کی گفتگو سننے کے بعد جو تاثر بنتا ہے وہ یہی ہے کہ مذہبی فکر شروع دن سے عدم تحفظ کو اپنے اوپر طاری کیے ہوئے ہے اور مخصوص اینگل سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتی جبکہ ذہنی و علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ تنقید کو خوش خلقی سے سننے کا حوصلہ پیدا کیا جائے اور خوش طبعی کے ساتھ گفتگو کے عمل کو جاری رکھنے میں ہی انسانیت کی بھلائی ہے۔ "دی بلیک ہول" والوں سے التجاء ہے کہ ایک بار فرنود عالم اور ساحل عدیم کو بھی اس پلیٹ فارم پر مدعو کیا جائے اور باہمی گفتگو کا موقع فراہم کیا جائے۔

 

بشکریہ اردو کالمز