1320

حضرت عمرؓ کی ابتدائی زندگی قابل رشک خاندان

 

 

حضرت عمرؓ  کا تعلق انتہائی عزت و عظمت، قاںل رشک، قدر و منزلت کے حامل خاندان سے تھا، جس کا اندازہ ان کے نسب کو دیکھ کر کیا جا سکتا ہے۔

 

عمرؓ بن خطاب بن نفیل بن عبد العزّٰی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوّیٰ بن فہربن مالک۔ جبکہ والدہ کا نام خنتمہ تھا جو عرب کے مشہور سردار ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں

 

آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمرؓ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔ 

 

(الفاروق مصنف شبلی نعمانی)

 

حضرت عمرؓ کاخاندان ایام جاہلیت سے نہایت ممتاز تھا، آپ کے جدا علیٰ "عدی" عرب کے باہمی منازعات میں ثالث مقرر ہوا کرتے تھے اور قریش کو کسی قبیلہ کے ساتھ کوئی ملکی معاملہ پیش آجاتا تو سفیر بن کر جایا کرتے تھے اور یہ دونوں منصب عدی کے خاندان میں نسلا بعد نسل چلے آرہے تھے، ددھیال کی طرح حضرت عمرؓ ننھیال کی طرف سے بھی نہایت معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی والدہ ختمہ، ہاشم بن مغیرہ کی بیٹی تھیں اور مغیرہ اس درجہ کے آدمی تھے کہ جب قریش کسی قبیلہ سے نبرد آزمائی کے لیے جاتے تھے تو فوج کا اہتمام ان ہی کے متعلق ہوتا تھا۔ ( عقد فرید باپ فضائل العرب )

 

حضرت عمرؓ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے چالیس برس پہلے پیدا ہوئے، ایام طفولیت کے حالات پردہ خفا میں ہیں؛بلکہ سن رشد کے حالات بھی بہت کم معلوم ہیں، شباب کا آغاز ہوا تو ان شریفانہ مشغلوں میں مشغول ہوئے جو شرفائے عرب میں عموماً رائج تھے، یعنی نسب دانی، سپہ گری، پہلوانی اور خطابت میں مہارت پیدا کی، خصوصاً شہسواری میں کمال حاصل کیا، اسی زمانہ میں انہوں نے لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیا تھا؛چنانچہ زمانہ جاہلیت میں جو لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے ان میں سے ایک عمرؓ  بھی تھے۔ ( الاستعیاب تذکرہ عمر بن الخطاب ) 

 

تعلیم وتعلم سے فارغ ہونے کے بعد فکر معاش کی طرف متوجہ ہوئے، عرب میں لوگوں کا ذریعہ معاش زیادہ تر تجارت تھا، اس لیے انہوں نے بھی یہی شغل اختیار کیا اور اسی سلسلہ میں دور دراز ممالک کا سفر کیا، اس سے آپ کو بڑے تجربے اور فوائد حاصل ہوئے، آپ کی خودداری بلند حوصلگی، تجربہ کاری اورمعاملہ فہمی اسی کا نتیجہ تھی اور ان ہی اوصاف کی بنا پر قریش نے آپکو سفارت کے منصب پر مامور کردیا تھا، قبائل میں جب کوئی پیچیدگی پیدا ہو جاتی تھی تو آپ ہی سفیر بن کر جاتے تھے اور اپنے غیر معمولی فہم وتدبر اور تجربہ سے اس معاملہ کو حل کرتے تھے۔ (فتح البلدان بلاذری:477)

 

عمرکا ستائیسواں سال تھا کہ ریگستان عرب میں آفتاب اسلام روشن ہوا اور مکہ کی گھاٹیوں سے توحید کی صدا بلند ہوئی، عمرؓ کے لیے یہ آواز نہایت نامانوس تھی اس لیے سخت برہم ہوئے، یہاں تک جس کی نسبت معلوم ہو جاتا کہ یہ مسلمان ہو گیا ہے اس کے دشمن بن جاتے، ان کے خاندان کی ایک کنیز بسینہ نامی مسلمان ہو گئی تھی، اس کو اتنا مارتے کہ مارتے مارتے تھک جاتے، بسینہ کے سوا اورجس پر بھی قابو چلتا زدوکوب سے دریغ نہیں کرتے تھے؛لیکن اسلام کا نشہ ایسا نہ تھا جو چڑھ کر اتر جاتا، ان تمام سختیوں پر ایک شخص کو بھی وہ اسلام سے بددل نہ کرسکے۔

 

کسے یہ معلوم تھا کہ جو کفر پر اتنا پختہ تھا، وہ بات میں اتنے اعلی صفات سے مزین ہو جائے گا، جس کی نظیر تاریخ عالم میں ملنا ناممکن ہو گئی۔ 

بشکریہ اردو کالمز