186

خدارا! نکاح آسان بنائیں

ترکی دنیا کا واحد ملک ہے جس کے دریچے ایک جانب یورپ میں کھلتے ہیں تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں۔ اسے ایک جانب آزاد مغربی معاشرے کے کلچر کی آزاد روی کا سامنا ہے تو دوسری جانب اسلام کا پاکیزہ و باحیا اقدار پر مشتمل معاشرہ آباد ہے، گو کہ مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک میں بھی جدیدیت کے نام پر مغربی کلچر فروغ پا رہا ہے لیکن مجموعی طور پر ابھی تک اکثریت اسلامی اقدار و روایات کے پاسدار و امین ہی ہے۔

خلافت عثمانیہ میں ترکی اسلامی تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہوا کرتا تھا۔ دنیا بھر میں خلافت عثمانیہ کا ڈنکا بجتا تھا لیکن اس وقت کی طاغوتی طاقتوں کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی تھی اسی لیے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کرکے وہاں ایک ایسے شخص مصطفی کمال اتاترک کو مسلط کردیا گیا جس نے ترک معاشرے اور عوام کے دلوں سے اسلام سے محبت کے نقوش کھرچ کھرچ کر مٹانے کی کوشش کی لیکن وہ اور اس کے نظریاتی ساتھی شاید یہ بات نہیں جانتے تھے کہ:

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اتنا ہی یہ اْبھرے گا جتنا کہ دباؤ گے

ترکی میں اسلام پسندوں نے کروٹ لی اور جدیدیت کے حامیوں کو شکست فاش ملی۔ اس وقت ترکی کی باگ ڈور ایک اسلام پسند ترک رہنما رجب طیب اردوان کے ہاتھ میں ہے۔ جو ترکی کو ایک بار پھر اسلام کی جانب لے جانے کے لیے کوشاں ہے۔ استنبول کی معروف مسجد آیا صوفیہ جو سلطنت عثمانیہ کی یادگار ہے، کمال اتاترک اور اس کے نام لیواؤں نے اسے نمائش گاہ بنا دیا تھا۔ رجب طیب اردوان کو اللہ نے توفیق دی، اس نے نمائش گاہ کو ختم کرکے پھر مسجد کا اسٹیٹس بحال کردیا اور اب وہاں پانچ وقت اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہورہی ہیں لاکھوں مسلمان روزانہ نماز ادا کررہے ہیں۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر رجب طیب اردوان کا ایک بیان نظر سے گزرا، جس نے دل کو راحت و سکون بخشا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’بدقسمتی سے نوجوان نسل جوانی میں شادیاں نہیں کر رہی۔ 30 سال کے بعد پسند کی شادی کرتی ہے یا پھر گھر بیٹھی رہ جاتی ہے۔

 

کیا یہ چیز اچھی ہے؟ نکاح کے بغیر تعلق کی میڈیا کے ذریعے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ٹی وی چینلز پر مہم چلائی جاتی ہے۔ اس کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی‘‘۔ ان کا یہ بیان پڑھ کر ایسا لگا جیسے ترک صدر نے زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر معاشرے کے ایک بڑے اور گمبھیر ’’مرض‘‘کی نشاندہی کردی ہو کیونکہ یہ مسئلہ ترکی کا ہی نہیں بلکہ تمام اسلامی دنیا کا ہے۔ مغربی ثقافت کی آزاد روی میں ایک سب سے بڑی پریشانی یہی تو ہے، ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہمارے خاندانی نظام کو کمزور کیا جارہا ہے۔ نکاح کو مشکل بنانا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس ضمن میں اسلام کی تعلیمات ہمیں کیا درس دیتی ہیں۔ آئیے !یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

انسانی معاشرہ دو صنفوں یعنی مرد اور عورت سے مل کر وجود میں آیا ہے، مرد کے ساتھ ہی عورت کی بھی تخلیق کی گئی ہے، جسکا مقصد مرد اور عورت کے باہمی تعلقات کے ذریعے نسل انسانی کو فروغ دینا ہے، مرد اور عورت کے درمیان یہ ایک ایسا تعلق اور ایک ایسی کشش ہے جو جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا کہ پھر انسانوں اور جانوروں میں فرق کیا رہ جاتا ہے، وہ کونسی چیز ہے جو دیگر مخلوقات کو انسانوں سے الگ کرتی ہے؟

 

تو اس کا جواب یہ ہے کہ انسانوں کے اندر مرد اور عورت کے مابین جو کشش رکھی گئی ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ وہ جس طرح چاہیں آزادانہ طور پر باہمی تعلق بنائیں اور زندگی گزاریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ان کو ایک شریفانہ مضبوط اور مستحکم نظام کے ساتھ جوڑ دیا جائے جس کے ذریعے وہ اپنی ازدواجی زندگی گزاریں۔ اب ہر عقل رکھنے والا شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ پہلی صورت دیگر حیوانوں اور جانوروں کے لائق تو ہو سکتی ہے لیکن انسانوں کے لیے بالکل نامناسب ہے۔

 

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان صرف ایک حیوانی وجود ہی کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایک سماجی مخلوق کی حیثیت سے آیا ہے اور اس حیثیت سے اس کے اوپر ڈھیر ساری ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں، اور ان ہی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے وہ ایک خاص قسم کے ماحول اور ایک مستحکم خاندانی اور معاشرتی نظام کا محتاج ہوتا ہے، جسکی ایک متعین حد ہوتی ہے۔ اس کی یہ محتاجی چند مہینوں اور ہفتوں کے لیے نہیں ہوتی ہے بلکہ تا حیات وہ ایک مستحکم نظام کا پابند ہوتا ہے اور جب بھی وہ اس نظام سے ہٹتا ہے اور اپنی حد کو پار کرتا ہے تو اس کا شمار جانوروں میں کر دیا جاتا ہے اور اسے جانوروں سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے۔

 

اللہ کے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ ’’نکاح میری سنت ہے‘‘۔ جب ہم شادی کے لیے دعوت نامے چھپواتے ہیں تو ان پر یہ حدیث اکثر وبیشتر لوگ لکھتے ہیں۔ نکاح کے خطبے میں بھی یہ حدیث پڑھی جاتی ہے۔

لیکن اس بات پر بہت کم  غور کیا جاتا ہے کہ نکاح اللہ کے رسول ﷺ کی سنت ہے۔ تو کیا ہم اسی سنت کی پیروی کر رہے ہیں؟ جو شخص ایک شادی کارڈ اگر 200، 400 یا پانچ سو روپے یا اس سے زیادہ قیمت کا ہوتا ہے اور اس پر یہ حدیث بھی لکھی رہتی ہے تو کیا یہ سنت کی پیروی ہے یا خلاف ورزی ہے؟ میرے خیال سے اس طرح کی فضول خرچی قرآن اور حدیث دونوں کے خلاف ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’فضول خرچی نہ کرو، فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں‘‘ (بنی اسرائیل: 27)۔

 

اس طرح کے شادی کارڈ چھپوانے والے ایک طرح سے شادی یا نکاح کی انجام دہی سے پہلے یہ اعلان کردیتے ہیں کہ جو شادی ان کے گھر میں انجام پانے والی ہے وہ سنت کے طریقے پر نہیں ہوگی بلکہ رسم و رواج کے مطابق ہوگی یا میری خواہش کے مطابق ہوگی۔ جب شادی سنت کے مطابق نہیں ہوگی تو یقیناً اس میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں اور ہم خود نکاح جیسی سنت کو مشکل بنا رہے ہیں۔

چاہتے نہ چاہتے ہوئے ہم اسلام دشمن طاقتوں کے اس ایجنڈے کو تقویت پہنچا رہے ہیں، جس کے ذریعے نکاح مشکل اور زنا آسان بنایا جارہا ہے، یہ ایک چیز ہے ایسی بے شمار خرافات نکاح کو مشکل بنانے کا باعث بن رہی ہیں، ان میں جہیز کا لینا اور دینا بھی شامل ہے، بارات، بینڈ باجے، ڈھول ڈھمکا، چراغاں اور آتش بازی، مہندی، بارات اور ولیموں پر بننے والے درجنوں پکوان۔ یہ سب چیزیں نکاح کو مشکل بنانے کا سامان ہیں۔ اسلام شادی بیاہ میں ولیمہ سمیت جشن و خوشی منانے کی اجازت دیتا ہے لیکن فضول خرچی اور شاہانہ تقریبات کی نہیں۔

معاشرے کے لیے پر تعیش اور شاہانہ تقریبات نہایت نقصان دہ ہیں اس سے بچنے کی ضرورت ہے، جو شاہانہ تقریبات کی مخالفت کرتے ہیں وہ ہرگز خوشیوں اور جشن منانے کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ایسی تقریبات کو معاشرے کے لیے مضر اور نقصان دہ سمجھتے ہیں جو ایک حقیقت ہے۔ فضول خرچی، مضر دوائی اورغذا کی طرح ہے جو کسی بھی صورت انسان کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوتیں۔

پرتعیش دعوتوں کی وجہ سے معاشرے کو بہت نقصان پہنچتا ہے لیکن معقول دعوت ولیمہ میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ اگر ہم اس قسم کی پرتعیش دعوتوں کے خلاف آواز بلند نہیں کریں گے تو یہ سلسلہ جاری رہے گا اور بہت سارے خاندان ایک دوسرے کی نقل کی کوشش کرتے ہوئے مزید مشکل میں پڑ جائیں گے۔ جب کوئی غریب ان چیزوں کو دیکھتا ہے تو اسے اپنے بچوں کی شادیاں کرنا مشکل بن جاتا ہے۔ بچے اور بچیوں کی عمریں نکاح کے لیے نکل جاتی ہیں۔ اس سے بھی معاشرے میں بے راہ روی پیدا ہوتی ہے۔

خدارا مسلم دنیا کے حکمران اور عوام اپنی ذمے داری کا احساس کریں۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نکاح کو آسان سے آسان تر بنانے کے لیے قانون سازی کریں۔ عوام کا فرض ہے کہ وہ اللوں تللوں میں پڑنے کے بجائے سادگی کا کلچر اپنائیں۔ جو فضول خرچی آپ نے اپنے بچوں کی شادیوں پر کرنا ہے اس سے بہتر عمل یہ ہے کہ غریب اور نادار بچیوں کے نکاح کے لیے بندوبست کریں۔ غریب اور نادار لوگوں کے لیے اجتماعی شادیوں یا اپنی شادی میں صدقے کی نیت سے کسی غریب کی شادی کروانا، شادی شدہ جوڑے کی آیندہ زندگی میں خوشیاں لائے گا۔ اس سے اللہ بھی خوش ہوگا اور ہمارا معاشرہ مغرب کی بیہودگی سے بھی محفوظ رہے گا۔

بشکریہ ایکسپرس