109

ہم سنبھال لیں گے کا بیانیہ اور سیاسی خودکشی

امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر مسلسل گررہی ہے۔ایسا مگر ہماری کرنسی کے ساتھ ہی نہیں ہورہا۔ یورپ کا ”یورو“ کئی دہائیوں تک ڈالر سے بالاتر رہا۔ چند دن قبل اس کے برابر آ گیا۔ بھارتی روپیہ بھی اپنی تاریخ کی کم ترین حد تک گر چکا ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہوتا ہے اس کی بابت کسی ایک ملک کے شہری عموماََ غافل اور لاتعلق رہتے ہیں۔جائز بنیادوں پر فقط اپنی پریشانی پر ہی بوکھلائے ہوئے توجہ مرکز رکھتے ہیں۔ اسی باعث ان دنوں اسلام آباد کی کسی محفل میںجائیں تو وہاں بیٹھے افراد پاکستانی روپے کی قدر لٹ جانے کی دہائی مچارہے ہوتے ہیں۔”امپورٹڈ حکومت“ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے کیونکہ عام پاکستانیوں کی دانست میںرواں برس کے اپریل تک وطن عزیز کے حالات ٹھیک ٹھاک تھے۔شہبازشریف کی قیادت میں ”امریکی سازش“ کے تحت عمران حکومت کی جگہ بھان متی کا کنبہ دکھتی حکومت قائم ہوئی تو مہنگائی کا طوفان برپا ہو گیا۔

میں ذاتی طورپر موجودہ حکومت کو ان دنوں کے معاشی بحران کا واحد ذمہ دار قطعاً نہیں ٹھہراتا۔ بنیادی وجہ اس بحران کی روس کی یوکرین کے خلاف جنگ ہے جس نے تیل کی قیمت کو ناقابل برداشت حد تک بڑھانا شروع کر دیا۔ اس کے علاوہ عالمی منڈی میں گندم کے علاوہ بے تحاشا خوردنی اشیاءبھی نایاب ہورہی ہیں۔پاکستان ا پنی کمزور معیشت اور تیل کی درآمد پر کامل انحصار کی وجہ سے ایک مطمئن دکھتے جزیرے کی صورت اختیار کر ہی نہیں سکتا۔

روس مگر یوکرین پر فروری کے آخری ہفتے میں حملہ آور ہوا تھا۔ ان دنوں جو لوگ حکومت میں بیٹھے ہیں ان میں سے کافی لوگ مختلف دھندوں کے کامیاب کھلاڑی شمار ہوتے ہیں۔ میں یہ سوچنے سے کامل انکارکرتا ہوں کہ وہ اس امر سے قطعاًبے خبر تھے کہ ہماری معیشت شدید ترین بحران کی جانب بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اگر ان کے پاس واضح انداز میں نمودار ہونے والے معاشی بحران سے نبردآزما ہونے کی حکمت عملی موجود نہیں تھی تو عمران خان صاحب کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹانے سے گریز اختیار کیا جانا چاہیے تھا۔اقتدار کی ہوس میں اندھے ہوکر وہ مگر سیاسی خودکشی کی جانب بہت اعتماد سے لپکے۔اس کے بعد جس گرداب میں ان دنوں گھرے ہوئے ہیں انہیں رحم کا مستحق بھی نہیں بناتی۔ مجھ جیسے جھکی افراد بلکہ ”ہور چوپو“ کا طعنہ دینے کو مجبور محسوس کر رہے ہیں۔

پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کا اہم ترین سبب عالمی معیشت کے نگہبان ادارے یعنی آئی ایم ایف کا رویہ بھی ہے۔ گزشتہ برس کے ستمبر ہی سے اس نے ہمیں آنکھیں دکھانا شروع کردی تھیں۔عمران حکومت کے وزیر خزانہ شوکت ترین اسے رام کرنے میں ناکام رہے۔ ”منی بجٹ“ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کو عاجلانہ قانون سازی کے ذریعے فراہم کردہ ”کامل خودمختاری“بھی اس ضمن میں کام نہیں آئی۔عمران خان صاحب نے بالآخر اُکتا کر ”انج اے تے انج ای سئی“ والی حکمت عملی اختیار کرلی۔ بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں کو قومی خزانے سے فراہم کردہ امدادی رقوم کی مدد سے منجمد رکھنے کو ڈٹ گئے اور یوں عوام سے فاخرانہ داد و تحسین بھی وصول کرلی۔

آئی ایم ایف کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے عمران خان صاحب نے ہرگز سادہ لوحی اور بے ساختگی نہیں برتی تھی۔ اقتدار کی حرکیات کا کا ئیاں شاہد ہوتے ہوئے وہ باخبر تھے کہ ”سیم پیج“ والے اب ان کے ساتھ نہیں رہے اور ان کی بے نیازی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یقینی بنارہی ہے۔ اس تحریک کے ذریعے بالآخر اپنی فراغت کو انہوں نے ”امریکی سازش“ بتایا۔ ہمارے عوام کی کماحقہ تعداد نے سازشی تھیوری پر اعتبار کیا۔ انہیں ہٹاکر مگر جو ”امپورٹڈ حکومت“ مبینہ طورپر لائی گئی ہے آئی ایم ایف اس کا ہاتھ تھامنے کو بھی آمادہ نہیں ہورہا۔ اسے گرداب میں گھرادیکھ کر بھی ہمدردی نہیں دکھا رہا۔

شہباز حکومت کے لئے مناسب تو یہی تھا کہ آئی ایم ایف کی سفاکی کو بخوبی جانتے ہوئے رواں برس کا بجٹ تیار کرنے کے بجائے نئے انتخاب کا تقاضا کرتی۔انتخابی مہم کے دوران شہباز شریف اور ان کے ساتھی عوام کو سمجھاتے کہ پاکستان کو دیوالیہ سے بچانے کے لئے وہ کون سے ”تلخ مگر ضروری“ فیصلے لانا چاہیں گے۔تحریک انصاف اس کے برعکس اپنا ”نسخہ“ لوگوں کے روبرو رکھتی اور آخری فیصلے کا حق عوام کے سپرد کر دیا جاتا۔

عمران خان صاحب کی جگہ آئی حکومت نے مگر اپنے تجربے اور صلاحیتوں پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کرتے ہوئے ”ہم سنبھال لیں گے“ والا تاثر دیا۔ آئی ایم ایف کو ہر صورت رام کرنے کی ٹھان لی۔اس کی وجہ سے بجلی اور پیٹرول کے نرخ ناقابل برداشت حد تک بڑھانے کو مجبور ہوئے۔ آئی ایم ایف مگر اب بھی رام نہیں ہوا ہے۔پاکستان کو اس کی جانب سے ایک ارب ڈالر فراہم کرنے میں دانستہ دیر لگائی جا رہی ہے۔

دریں اثناءپنجاب میں ضمنی انتخاب ہوئے۔ان کے نتائج حمزہ حکومت کی فراغت کا باعث ہوئے۔ پنجاب موجودہ حکومت کے ہاتھ سے گیا تو شہباز شریف دنیا کو محض ”اسلام آباد کا میئر“ نظر آنا شروع ہوگئے۔آئی ایم ایف بھی یہ سوچنے کو مجبور ہوا کہ اس کےساتھ امدادی رقوم کے حصول کے لئے جو وعدے کئے جارہے ہیں انہیں کون نبھائے گا۔

کئی بار اس کالم میں عرض کرچکا ہوں کہ آئی ایم ایف کی فیصلہ سازی میں امریکہ حتمی کردار کا حامل ہے۔ اسی باعث شہباز حکومت کی کمزوری عیاں ہوجانے کے بعد پاکستانی ریاست کے اہم ترین ادارے کے سربراہ یعنی آرمی چیف امریکہ کی نائب وزیر خارجہ سے ٹیلی فون کے ذریعے رابطے کو مجبور ہوئے۔ اس درخواست کے ساتھ کہ آئی ایم ایف کو پاکستان کے لئے مجوزہ رقم جلد از جلد فراہم کرنے کے لئے واشنگٹن اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔ شہباز حکومت کی ”آنیاں جانیاں “ مذکورہ تناظر میں کارگر ثابت ہوتی نظر نہ آئیں۔ہمیں مگر اس حکومت کے وزراءاب بھی نہایت اعتماد سے تسلی دئیے جارہے ہیں۔ پاکستانی روپے کی گراوٹ روکنے میں البتہ قطعی طورپر بے بس وناکام ہوچکے ہیں۔بوکھلاہٹ میں اس ”مافیا“ کے خلاف واجب اقدامات لینے کے قابل بھی نہیں رہے جس نے مصدقہ اطلاعات کے مطابق تقریباََ پانچ ارب ڈالر (جی ہاں پانچ ارب ڈالر) ذخیرہ کر رکھے ہیں۔

سٹے باز ذخیرہ اندوز افراد کے نام پاکستان کے ہر بڑے کاروباری فرد کے علم میں ہیں۔ انہیں مگر گرفت میں لانا ہماری حکومتوں کے بس میں نہیں ہوتا۔ پاکستانی روپے کی قدر کے گرنے کا رونا روتے ہوئے ہم اس حقیقت سے بھی غافل ہیں کہ ”غلامی کی زنجیریں“ توڑدینے کے بعد طالبان کے زیر نگین آیا افغانستان اپنی درآمدت پاکستان کی منڈی سے اٹھائے ڈالروں کے ذریعے ہی خرید رہا ہے۔ گزشتہ برس کے اگست سے امریکہ نے اس کے ساتھ غیر ملکی کرنسی میں رکھے ذخائر کو منجمد کررکھا ہے۔سٹے باز ذخیرہ ا ندوز اس سے بھی بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔”کرنسی کا بحران“ لہٰذا آئندہ کئی ہفتوں تک برقرار رہے گا اور اس کا تمام تر دوش موجودہ حکومت کے سر ہی رکھا جائے گا۔

بشکریہ نواےَ وقت