254

بچاؤ کے لیے نگران حکومت

جب رواں برس کے آغاز میں عمر عطا بندیال چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر فائز ہوئے تو میں نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے لکھا تھا، ”ان کا دور تاریخی اہمیت کا حامل ہوگا، چاہے بہترہو یا بدتر۔“

قانون اور عدالت کی دنیا میں ہونے والی پیش رفت کی ایک محترم مبصر، ریما عمر نے اپنے ٹوئٹر @reema_omer پر جسٹس بندیال کی آئینی اور عدالتی فعالیت کا احاطہ کیا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ 2015 ء سے لے کر اب تک ان کے زیادہ تر اہم فیصلوں نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں پارلیمنٹ، مرکزی دھارے کے میڈیا اور پاکستان مسلم لیگ ن مخالف رنگ بھر دیا ہے۔ ایک حالیہ کیس میں جسٹس بندیال کی سربراہی میں بنچ نے ایک قانون رقم کرتے ہوئے اراکین پارلیمنٹ کو اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کے حق سے محروم کردیا۔ ایک اور کیس میں جسٹس بندیال نے فیصلہ کیا کہ اراکین پارلیمنٹ کے لیے پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پارٹی سربراہ کی ہدایات سے زیادہ وزن رکھتی ہیں حالاں کہ وہ پارلیمانی پارٹی کا قائد ہوتا ہے۔ اب ایک تیسرے کیس میں اُنھوں نے بار اور بنچ کے تواتر سے دہرائے جانے والے سینیارٹی، میرٹ اور اہلیت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کو جونیئر ججوں سے بھر نے کی کوشش کی ہے۔ تو کیا جسٹس بندیال بھی اپنے حالیہ پیش روؤں، آصف سعید کھوسہ اور ثاقب نثار کی طرح افسوس ناک تنقید کا نشانہ بننے جارہے ہیں؟

پاکستان کی عدلیہ ”ایگزیکٹو کی باندی“ رہی ہے۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں، نوآبادیاتی دور سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے۔ چونکہ ایگزیکٹو طاقت کبھی سولین اورکبھی فوجی ہاتھوں میں رہی ہے، عدلیہ نے دونوں کے ساتھ ”انصاف“ کیا ہے۔ لیکن جب بھی ان دونوں کی محاذ آرائی کی نوبت آئی، عدلیہ کا جھکاؤہمیشہ طاقتور فوج کی طرف رہا۔

فوج نے اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے عدلیہ کے ساتھ روابط استوار کرنے کی دانائی کو تسلیم کرلیا ہے۔ اب بندوق کی نوک پر براہ راست اقتدار پر قبضہ کرنے میں کوئی کشش باقی نہیں رہی، اور نہ ہی یہ سومند ہے۔روایتی پرنٹ میڈیا جسے کبھی کنٹرول کیا جاسکتا تھا،کی جگہ دور حاضر میں آزاد اور بے قابو سوشل میڈیا نے لے لی ہے۔ دوسری طرف 2008-09 ء کی کامیاب وکلا تحریک کے بعد ججوں نے حالات کو اپنے حق میں ساز گار پاتے ہوئے ذاتی اورآئینی مفادات کی کھیتی میں اپنے لیے بہتر فصل کاانتخاب کرلیا۔ افتخار محمد چوہدری کے بعد سے سب سے زیادہ بار آور عہدہ چیف جسٹس آف پاکستان کا بن چکا ہے۔

بدقسمتی سے گزرتے برسوں کے دوران سویلین عہدوں کے دعویداروں کے درمیان تلخ لڑائی نے پارلیمان کو کمزور کرتے ہوئے فوج اور عدلیہ دونوں کو مضبوط کیا۔ 2008-13 ء کے دوران پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں حکمران جماعت نے ججوں کی تقرریوں اور ترقیوں کے بارے میں دو طرفہ پارلیمانی نظرثانی کے لیے قانون سازی کرنے کی کوشش کی لیکن پاکستان مسلم لیگ ن پر مشتمل حزب اختلاف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا ساتھ دیتے ہوئے اس اقدام کو سبوتاژ کردیا۔اس کے نتیجے میں اب چیف جسٹس آف پاکستان سیاسی یا ذاتی تعصب پراز خود نوٹس لیتے ہوئے اپنی مرضی کا بنچ چن کر پارلیمنٹ اور آئینی نظیر کو اٹھا کر ایک طرف پھینک سکتے ہیں۔

معزز بار اور بنچ کے اراکین کے مطابق چیف جسٹس بندیال کی طرف سے سپریم کورٹ کو پانچ منتخب جونیئر ججوں کے ساتھ ”بھرنے“ کی حالیہ کوشش کا مقصد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی قیادت میں ”آزادمنش“ ججوں کے گروپ کو ناکام بنانا تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اگلے سال کے آخر میں چیف جسٹس بننے والے ہیں۔ حال ہی میں اسٹبلشمنٹ کے حامی ججوں کے دھڑے کے خلاف ایک دلیرانہ ردعمل میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے چھوٹی جسامت لیکن پہاڑوں جیسا حوصلہ رکھنے والے انسان، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر، علی احمد کرد نے گرج کر کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی قیادت میں صرف چار ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کو ہی ” آزاد“ عدالت کہا جاسکتا ہے۔

اسٹبلشمنٹ اورعدلیہ کے ناپاک گٹھ جوڑ جس نے عمران خان کی ہائبرڈ حکومت کی بنیاد رکھی، پاکستان کو اس آئینی اور معاشی جمود تک پہنچایا۔ اب ریاستی نظام میں اختراعی انجینئرنگ کے ایک نئے دور کا مرحلہ طے ہوچکا۔

گزشتہ سال کے آخر میں اسٹبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچی کہ عمران خان کے ساتھ اس کا ہائبرڈ تجربہ ناکام رہا ہے۔ اس نے فوج کو بدنام کیا، معیشت کو تباہ کیا اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کر دیا۔ جب خان نے مزاحمت کی تو ججوں کو آدھی رات کو بزور شمشیر باہر نکالا گیا۔ پی ڈی ایم کو قدرے ہچکچاہٹ کے ساتھ اقتدار سونپا گیا تاکہ وہ فوری طور پر عام انتخابات کا مطالبہ کرے۔ اس صورت میں اسٹبلشمنٹ کی طرف سے چنی گئی نگراں حکومت عبوری طور پر کنٹرول حاصل کرے، جس سے اسٹبلشمنٹ کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے دستخط کرنے کا موقع مل سکے گا۔ اور اگلے آرمی چیف کا تقرر کریں، موجودہ کو محفوظ راستہ دیں اور اس کے لیے بیرون ملک نئی ملازمت کی منظوری دیں۔ تاہم بدقسمتی سے، جب پی ڈی ایم حکومت نے اگلے سال تک اپنے عہدے پر رہنے کا فیصلہ کیا اور خود کو مضبوط کرنے کے لیے پنجاب پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، تو اسٹبلشمنٹ کے منصوبوں کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ مشکل آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے پی ڈی ایم کی حکومت جتنی زیادہ غیر مقبول ہوئی، عمران خان کے ایک سال کے اندر حکومت میں واپس آنے اور اسٹبلشمنٹ کے رہنماؤں کے موجودہ دھڑے سے خلاف انتقام لینے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہیں۔ ججوں نے پنجاب کو پی ڈی ایم سے انکار کرتے ہوئے عمران خان کو نئے انتخابات کرانے کی راہ ہموار کی۔

اگر پی ڈی ایم اپریل میں عمران خان کی کمزور ترین پوزیشن کے موقع پر تازہ انتخابات کی طرف جاتی تو اس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کی جیت ہوتی یا پارلیمنٹ معلق ہوتی جس سے اسٹبلشمنٹ کو ایک بار پھر ہائبرڈ حکومت کا مقابلہ کرنے میں مدد ملتی۔ لیکن وہ لمحہ گزر چکا ہے۔ خان اب جارحیت پر اتر آیا ہے۔ مسلم لیگ ن فتح کے بیانیے کے بغیر انتشار کا شکار ہے۔ اب یہ کسی بھی وقت کی بات ہے جب پی ڈی ایم حکومت آنکھ کے ایک اشارے سے گر جائے۔

لیکن پرانے اندازے الٹ چکے ہیں۔ اس لیے نگراں اسٹبلشمنٹ کو بچانے کے لیے تیار ہیں۔ اس معرکے کے اگلے مرحلے پرعدلیہ کی طرف سے سہولت اہم ہے۔ مسلم لیگ ن کے لیے کھیل کا مساوی میدان ہو۔نواز شریف اور مریم نواز شریف کو انتخابات میں اپنی پارٹی کی قیادت کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ اچھا سیاسی مقابلہ ہوسکے۔ اس طرح عمران خان کو ایک مرتبہ پھر اسلام آباد میں حکومت بنانے سے روکا جاسکے گا۔ لیکن اگر کسی نہ کسی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا، تو پھر نگرانوں کی زندگی اُن کی توقع سے کہیں بڑھ کر طلسمی تحفظ کے حصار میں ہوگی۔

بشکریہ ہم سب