92

”میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا “

ہمارے اقبال نے ”مرگ مفاجات“ کو ”جرم ضعیفی“ کی سزا ٹھہرایا تھا۔ اس ضمن میں ان کے لکھے مصرعے کو میں نے ہمیشہ اسلامی سلطنتوں کے زوال تک ہی مختص تصور کیا۔گزشتہ چند دنوں سے مگر بہت شدت سے یہ محسوس کرنا شروع ہوگیا ہوں کہ مذکورہ مصرعہ درحقیقت میری ذات کے بارے میں بھی لکھا گیا ہے۔

اپنی عمر کے اس حصے میں یقینا پہنچ چکا ہوں جہاں انسان کو تقریباََ گوشہ نشین ہو کر ”وقت رخصت“ کا انتظار کرنا چاہیے۔ ذات کا مگر رپورٹر رہا ہوں۔حالات حاضرہ پر گہری نگاہ رکھنے کو مجبور محسوس کرتا ہوں۔رزق کمانے کے لئے ہفتے کے پانچ دن یہ کالم بھی لکھنا ہوتاہے۔ اسی باعث کوشش ہوتی ہے کہ ان دنوں فیلڈ میں جو رپورٹر متحرک ہیں ان سے مسلسل رابطے میں رہوں۔ میری خوش بختی کہ نوجوان صحافیوں کی معقول تعداد میری خواہش کو خود پر بوجھ تصور نہیں کرتی۔ کہیں محفل جمائے بیٹھے ہوں تو بہت چاﺅ سے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھاکر وہاں لے جاتے ہیں۔ مجھے جھکی پن کو اُکساتے ہیں اور کبھی کبھار ڈانٹ ڈپٹ کھانے کے باوجود رات گئے گھر واپس پہنچا دیتے ہیں۔

خود کو عقل کل تصور کرنے کی علت مجھے لاحق نہیں۔ ہمیشہ اس جستجو میں مبتلا رہا کہ وہ جسے فلسفے کی زبان میں ”عصر حاضر“ کہا جاتا ہے اس کے تقاضوں کو سمجھا جائے۔ اس جستجو کی بدولت میں اپنے کئی ہم عصر صحافیوں کے برعکس 1990ء کی دہائی ہی سے انٹرنیٹ کے متعارف کردہ رحجانات سے آگاہ ہونا شروع ہو گیا تھا۔ اپنی زندگی میں پہلا لیپ ٹاپ میں نے 1997ء میں خریدا تھا۔ اس کے استعمال سے میں نے Chat نامی شے بھی دریافت کر لی۔ فیس بک اور ٹویٹر جوں ہی متعارف ہوئے انہیں بذات خود استعمال کرنا بھی شروع ہو گیا۔ انسٹا گرام اور ٹک ٹاک مگر مجھے پسند نہیں آئے۔ یوٹیوب پر اپنا چینل بنانے سے اس لئے بھی گریز کرتا ہوں کہ مجھے اس کے ذریعے اپنے خیالات کو خود ہی ریکارڈ اور ایڈٹ کرنا دشوار محسوس ہوتا ہے۔ جوانی کے کئی برس ٹی وی ڈرامے لکھنے اور انہیں پروڈیوس کرنے میں مدد دینے میں صرف کئے ہیں۔اس کی وجہ سے کیمرے کے روبرو آنے کے بجائے اس کے پیچھے کھڑے ہو کر ”سین“ تیار کرنے کو ترجیح دیتا ہوں۔

ابلاغ کے جدید ترین ذرائع سے کماحقہ آگاہی کے باوجود مجھے اپنے نوجوان ساتھیوں سے اکثر یہ گلہ سننے کو ملتا ہے کہ عمران خان صاحب نے مذکورہ ذرائع کے ماہرانہ استعمال کے ذریعے ہماری نوجوان نسل کا ذہن جس انداز میں بدلا ہے میں اسے سمجھ نہیں پا رہا۔ وطن عزیز میں اس کی وجہ سے ”پہلی بار“ ہماری نوجوان نسل حکمران اشرافیہ کے روبرو ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہے۔ یہ چلن جاری رہا تو پاکستان میں ”جب راج کرے گی خلق خدا“ کا خواب جلد ہی عملی صورت اختیار کر لے گا۔ 1950 کی دہائی سے ”رعایا“ کا مقدر طے کرنے والے ”سلطانی ادارے“ اب بے بس ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ نوجوان دوستوں کے خیالات سن کر میں فقط ”تیرے منہ میں گھی شکر“ کی دُعا مانگنے تک محدود رہتا ہوں۔

میرے بچپن میں ہمارے گھر ”امروز“ اخبار آیا کرتا تھا۔ فیض احمد فیض اس کے بنیادی مدیروں میں شامل تھے۔ مولانا چراغ حسن حسرت کی نگرانی میں یہ لوگوں کو بآسانی سمجھ آنے والی زبان میں مقامی اور عالمی خبروں سے آگاہ رکھتا تھا۔ مذکورہ اخبار میں روزانہ ادارتی صفحات پر ایک کالم بھی چھپتا تھا۔ غالباً اس کا نام ”پس منظر“ تھا۔ اس کالم میں اہم ترین عالمی واقعات کے باعث ٹھہرے اسباب سمجھانے کی کوشش ہوتی تھی۔ اسے پڑھتے ہوئے میں بتدریج پاکستان کو دنیا سے کٹا ہوا جزیرہ تصور کرنے کے قابل نہ رہا۔ ہمارے ہاں جب کسی بھی نوع کی ”عوامی تحاریک“ چلیں تو میں ان کا تقابل دنیا کے ان ممالک میں چلی تحاریک سے کرنے کو مچل جاتا ہوں جن کے معروضی حالات ہمارے جیسے ہیں۔

سوشل میڈیا کی بدولت آج سے تقریباً دس برس قبل مصر میں ”التحریر اسکوائر“ برپا ہوا تھا۔ اتفاق سے میں نے اس ملک میں اس صدی کے آغاز میں تقریباً دو ہفتے بھی گزارے تھے۔ وہاں کے آمرانہ نظام کی دہشت کو برسرزمین محسوس کیا۔ ”التحریر اسکوائر“ جما تو مصرکی بابت کئی کتابیں اور اخبارات میں چھپے مضامین بھی بہت غور سے پڑھنا شروع ہو گیا۔ ”التحریر سکوائر“ کی وجہ سے ”عرب بہار“ کی نوید بھی کئی برسوں تک میڈیا پر حاوی رہی۔ آغاز اس کا تیونس سے ہوا تھا۔

مصر کی ”بہار“ مگر بالآخر حسنی مبارک کی جگہ اس ملک کی عسکری اشرافیہ ہی سے ابھرے ایک اور ”دیدہ ور“ السیسی کو ”نیا فرعون“ بنانے کاباعث ہوئی۔ تیونس بھی ان دنوں ایک ایسے صدر کے رحم وکرم پر ہے جو ”انتشار“کے خاتمے کا عہد کئے ہوئے ایک ”نیا نظام“ متعارف کروانے کو مضطرب ہے۔ مصر کے ہمسایہ شام میں ”عرب بہار“ نے وہاں کے بشارالاسد کا تو کچھ نہیں بگاڑا۔ وہ ملک مگر خانہ جنگی کی وجہ سے کئی ”خود مختار“ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے۔ ان ٹکڑوں پر روس کے علاوہ ترکی بھی اپنا حتمی کنٹرول قائم کرنا چاہ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ”داعش“ بھی ہے جو کسی کے قابو میں نہیں آرہی۔

اپنے نوجوان دوستوں کے روبرو نہایت خلوص سے جب مصر، شام اور تیونس کی مثالیں رکھتا ہوں تو ان میں سے چند کوئی واضح جواب دینے کے بجائے نہایت احترام سے فقط یہ جواب دیتے ہیں کہ ”ماضی کے حقائق“ میں مسلسل گرفتار رہنے کی وجہ سے میں پاکستان کے ”نئے حقائق“ دیکھنے سے معذور ہو چکا ہوں۔

بخدا میں ان کی سوچ کا ہرگز برا نہیں مانتا۔ اس سوال کا جواب مگر اب بھی جاننے کو بے چین ہوں کہ سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال مصر کے شہری متوسط طبقے کی اکثریت کے خواب کو عملی صورت کیوں نہ دے سکا۔ اسلامی ملکوں کے علاوہ ہمارے ہی خطے کا ایک اور ملک برما بھی ہے۔ وہاں کئی دہائیوں سے جمہوری نظام کی تحریک چلی۔ آنگ سان سوچی اس کی رہنما تھی۔ اسے نوبل پرائز بھی ملا۔ وہ بالآخر کئی سالوں تک حکمرانی میں شریک بھی رہی۔ ان دنوں مگر دوبارہ نظر بند ہے اور برما ان ہی قوتوں کے جابرانہ کنٹرول میں جا چکا ہے جو 1960ء کی دہائی سے اس ملک پر بے رحمانہ انداز میں چھائی ہوئی ہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟ ”کاش کوئی مجھ کو سمجھاتا۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔“

بشکریہ نواےَ وقت