یہ ٹک ٹاک کا کیا کریں

ہزار پابندیاں لگیں مگر یہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔وہ تو خیر ٹک ٹاک کے نام پر جو کچھ کرتے ہیں کریں مگر اس میں یہ جو جان کا جانا ہے اس پر اعتراض ہے۔ مگر کیا کریں ٹک ٹاک بنانے والوں میں بچے توکیا بڑے بھی شامل ہیں۔پھر دوسری بات یہ کہ اب تو ہر قوم کے افرادٹاک ٹاک بنانے لگے ہیں۔اس پر اعتراض نہیں مگر اخلاق سے گرے ہوئے شاٹ نہ ہوں۔پھرسب سے بڑھ کر کہ اس دوران میں جو اتفاقی اموات ہو جاتی ہیں یہ بہت پریشانی ہے۔پھر ٹک ٹاک میں ایک بیہودہ پن نے بھی اپنی جگہ بنا لی ہے۔اب کوڑے کا شاپر سڑک کے دوسرے کنارے ڈمپر میں پھینکنے پر بھی ٹک ٹاک بنے ہیں۔ یہ متعدی بیماری اب ہر قومیت کے افراد کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔انگریز کے ہاتھ میں کوڑے کا تھیلا ہے او روہ بجائے اس کے کہ سڑک کے سامنے والے کنارے پر خود جاکر پلاسٹک کی بڑی باسکٹ میں پھینک دے۔

وہ اپنی جگہ کھڑے رہ کر باسکٹ بال کے کھیل کی طرح کوڑے کا شاپر دور سے بڑی باسکٹ میں عین نشانے پر اچھالتا ہے او روہ تھیلا سیدھا ڈمپر میں جاگر تا ہے۔ اس کے ساتھ اسے شاباشی ملی ہوگی۔مگر ہمارے نزدیک تو یہ غلط کام ہے۔کیونکہ ٹک ٹاک بنانے کے شوق میں آپ بچوں کو اور اپنے سے چھوٹوں کو کیا سکھلا رہے ہیں۔پھر بچے بھی اپنے ماں باپ کے آکھے ویکھے میں نہیں۔اگر والدین منع کریں تو یہ چھپ چھپا کر ٹک ٹاک بناتے ہیں۔سو دفعہ بنائیں مگر جان سے تو نہ جائیں۔ ایک بچی اپنے گھر کی چھت پر ٹک ٹاک بناتے ہوئے گول گھوم کر گاناگاتے جب انجانے میں سر پھرا تو قدم بجائے چھت کی زمین پر پڑنے کے پاس ہی کھلے منگ کے عین درمیان میں جا پڑا۔جس کے نتیجے میں وہ پل جھل میں نیچے جا پہنچی۔بس اتنا ہی دکھلاتے ہیں۔پتا نہیں اس کا کیا حشر ہوا ہوگا۔یہ ہم لوگ کیا کر رہے ہیں۔اب تو ہم باہر کے مہذب معاشروں کی اچھی مثال بھی ٹک ٹاک میں نہیں دے سکتے۔کیونکہ سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہیں۔جو ترقی یافتہ ہیں تو وہ ہم سے زیادہ بیوقوف ہو ئے جاتے ہیں۔پرینک ہے تو اس میں جو بیہودگی اور غیر اخلاقی طرزِ عمل دکھلایا جاتا ہے اس کو تو چھوڑ ہی دیں۔ 

ہمارے یہاں تو عوام الناس کو سڑک پرجاتے ہوئے تنگ کرنا اور خواتین کو جھوٹ موٹ چھیڑنا سب اس پرینک اور ٹک ٹاک میں شامل ہے۔موجیں مارتا ہوا بے باک دریا جس کے کنارے پاس پاس نہ تھے۔ اس اٹھلاتے دریا میں چپل پہنے دو نوجوان لڑکے گانے کے پس منظر میں بہتے پُر شور دریا کے تیزدھارے میں کود پڑے۔ اندھے کو بھی صاف نظر آئے کہ یہ ڈبو دینے والا پانی ہے۔ایک کی نعش صبح کے اس واقعہ کے بعد دوپہر کو مل گئی اور اسی دن شام کو اس کاجنارہ تھا۔ پھر دوسرا لڑکا دو دن تک لاپتا رہا معلوم نہیں اس کا کیا ہوا۔یہ بھلا کون سی ٹک ٹاک ہے۔اب دنیا کے چال چلن کے کارن ہم بچوں کو کس کس بات سے منع کریں گے۔روز ایک نئی مصیبت رواج پانے لگتی ہے او رہم بڑے سب سے پہلے اس کو فالو کرتے ہیں۔ پھر ہماری دیکھاداکھی بچوں میں بھی یہ برائی در آتی ہے۔جس کی وجہ سے بڑوں کو تو نہیں مگر بچوں کو کسی نہ کسی طریقے سے نقصان پہنچ جاتا ہے۔

 

بشکریہ روزنامہ آج