110

کراچی میں سیلاب: مسئلہ لانگ بوٹوں سے حل نہیں ہو گا

’کیا اچھا لگتا ہے پورے صوبے کا وزیراعلیٰ بوٹ پہنے کراچی کے نالوں کی نگرانی کرے یا ملک کی سول و ملٹری قیادت مل کر ایک محمود آباد نالے کی صفائی اور سڑک کی تعمیر پہ سر جوڑ کر بیٹھے؟‘sharethis sharing button

کراچی کا ایک خاندان 11 جولائی 2022 کو اپنے گھر میں پانی بھر جانے کے بعد سامان اٹھا کر لے جا رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

 تابڑ توڑ بارش کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب لانگ بوٹ پہن کر نالوں کو جھانکنے نکلے، شام تک بوٹوں کی جگہ قینچی چپل نے لے لی، جہاں ایک آدمی سے ممکن تھا یہ وہاں وہاں پہنچے۔

سڑکیں خشک تو ہوگئیں مگر گلیوں میں جمع پانی بدستور ضد پہ اڑا رہا، گھروں میں گھسا سیلابی پانی منہ چڑاتا رہا اور دکانوں میں بھرے گندے پانی سے مال کا جو نقصان ہوا اس کا حساب کراچی کے تاجر اگلے کئی ماہ لگاتے رہیں گے۔

یہ بات ہے کراچی کی، جس کا پہلے رقبہ، آبادی، ریکارڈ توڑ بارشیں اور برسوں سے تباہ شدہ بلدیاتی نظام دیکھیں اور پھر سیلابی بارشوں سے شہر کی تباہی اور تتربتر ایڈمنسٹریشن کی بات کریں۔

ڈوبے ہوئے کراچی کا علاج وزیراعلیٰ کے لانگ بوٹ نہیں کہ ان کے ڈر سے سیلابی ریلا آپ ہی بحیرہ عرب میں جا گرے۔ پھر حل کیا ہے؟ 

ایم کیو ایم کے سابق صوبائی وزیر رضا ہارون سے بات نکلی تو میں نے حل پوچھ لیا۔ کہنے لگے، ’پہلے مسئلے کا تو مکمل ادراک کر لیں۔‘

اچھا تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ رضا ہارون کہنے لگے، ’اصل مسئلہ یہ نہ ماننا ہے کہ کراچی کا واحد پریکٹیکل حل بااختیار بلدیاتی نظام ہے۔ کیا اچھا لگتا ہے پورے صوبے کا وزیراعلیٰ بوٹ پہنے کراچی کے نالوں کی نگرانی کرے یا ملک کی سول و ملٹری قیادت مل کر ایک محمود آباد نالے کی صفائی اور سڑک کی تعمیر پہ سر جوڑ کر بیٹھے؟ یہ کام شہری حکومت کا ہونا چاہیے۔

’وزیراعظم بھلا کیوں ٹویٹ کر کے شہر کی تباہی پہ افسوس کریں؟ شہر کا انتظام اور مالی وسائل اور فیصلے کے اختیارات شہریوں کے منتخب نمائندوں کے پاس ہوں گے تو یہ دردِ سر ان کا ہو گا۔‘

مگر کراچی تو حصے بخیوں میں بٹا ہوا ہے۔ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز، ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کراچی پورٹ، پورٹ قاسم، نصف درجن کنٹونمنٹ کے علاقے، سائٹ کا علاقہ، کچی آبادیاں، ریلوے، سٹیل مل کی حدود اور کہیں کہیں کے ایم سی کے زیر انتظام علاقے۔

شہر ایک ہے مگر وفاق، صوبائی حکومت، شہری حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے بیسیوں اداروں کی کھینچا تانی سے چل نہیں گھسٹ رہا ہے۔ نہ کوئی کوآرڈینیشن، نہ جامع مرکزی پلان۔ یوں لگتا ہے جیسے ’حصہ بقدر جثہ‘ اپنے اپنے علاقے بانٹے ہوئے ہیں۔

میرے اس سوال پہ رضا ہارون نے کراچی کی شہری حکومت کو سنگل کمانڈ اتھارٹی کے تحت شہر کا مکمل اختیار دینے کی بات کی جس کا ذکر 2007 کے سپریم کورٹ کے حکم نامے میں موجود ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق سٹی ناظم کی سربراہی میں شہر کے تمام اداروں، اتھارٹیز اور باڈیز کا کُل ملا کر ایک بورڈ بننا تھا جو پورے شہر کے نظام کو یکسوئی سے ایک ساتھ لے کر چلا سکے، آج تک یہ معاملہ یونہی لٹکا ہوا ہے۔

رضا ہارون کہنے لگے، ’بھارت کے اروند کیجری وال کو بلدیاتی نظام کا چیمپیئن نظام کے تسلسل اور آئینی اختیارات نے بنایا۔ کوئی سوچ سکتا ہے دو سال سے کراچی میں کوئی شہری حکومت نہیں۔ اب لوکل باڈیز گورنمنٹ کے قانون سے بات نہیں بنے گی جس میں بہ یک جنبشِ قلم اختیارات چھین لیے جاتے ہیں۔

’جب تک پاکستان بھر میں بلدیاتی نظام کو آئینی شیلڈ نہیں ملے گی اس کی کلائی یونہی مروڑی جاتی رہے گی۔ آپ بااختیار بلدیاتی نظام آنے دیں پھر چاہے شہر کا ناظم پیپلز پارٹی کا منتخب ہو کوئی تبدیلی تو لا سکے گا، صوبائی حکومت کا لوڈ کم ہو گا۔‘

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کہتے ہیں، ’قیادت ملی تو شہریوں کے مسائل لڑ جھگڑ کر بھی حل کروانے پڑے تو کروائیں گے۔ ویسے ہی جیسے پیپلز پارٹی سے یہ منوا لیا کہ کراچی واٹر بورڈ کا سربراہ شہر کا ناظم ہو گا۔

سیلاب سے نمٹتے کراچی میں بلدیاتی انتخابات 24 جولائی کو شیڈول ہیں۔ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور آزاد امیدوار سمیت کئی سیاسی جماعتیں میدان میں ہیں مگر اس بار جماعت اسلامی نے فیلڈ ورک کر کے کراچی والوں کو بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کیا ہے۔

میں نے حافظ نعیم سے پوچھا کہ ’کراچی کی یوتھ تو تحریک انصاف کے گیتوں پہ جھومتی ہے، جماعت ٹف ٹائم کیسے دے گی؟‘

حافظ نعیم الرحمان کہنے لگے، ’کراچی والے عمران خان کے چاہے جتنے بڑے فین ہوں انہیں علم ہے کہ تحریک انصاف نے شہر کو کچھ نہیں دیا۔ رہ گئی ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی تو یہ شہر پچھلے 40 برسوں سے انہی کے رحم و کرم پہ تھا، کارکردگی عوام خوب دیکھ رہے ہیں۔‘

جماعت اسلامی والوں کا جماعتی ہونا بذات خود ایک مذہبی تاثر رکھتا ہے۔ ترقی پسند یا جدید سیاسی خیال رکھنے والوں کے لیے خود پہ جماعتی کا ٹھپہ لگوانا آسان نہیں۔ ہمارے ایک دوست جو پہلے ایم کیو ایم اور اب تحریک انصاف کے شدید حمایتی ہیں، اعلان کر بیٹھے کہ اس بار لوکل باڈیز میں ان کا ووٹ جماعت کا ہو گا۔  

میں نے فون کر کے چھیڑا، ’کیوں بھیا تم بھی جماعتی ہو گئے؟‘

کہنے لگے، ’پچھلے تین برسوں میں جماعت والوں نے حیران کیا ہے۔ وہ الگ بات کہ بیچاروں سے ایڈورٹائز نہیں ہوتا۔ کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن لگا تو یہ شہر کے غریبوں تک پہنچے، انہیں ہم نے کراچی کے سیلاب زدہ علاقوں میں مدد کرتے دیکھا۔ یہ ہمارے پانی، بجلی کے بلوں جیسے معاملات پہ دھرنے دیتے ہیں، بلوچستان میں دیکھا کیسے اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لے کر مقامی لوگوں کے لیے تحریک چلائی۔‘

میں نے پھر دہرایا کہ جماعت کا ’سیاسی نظریہ‘ ذرا محدود سا نہیں لگتا، وژن کی کمی ہے نا؟

میرے سوال پہ شاید تپ گئے تھے، کہنے لگے، ’کاہے کا نظریہ، یہ نظریے چلتے ہوں گے پنڈی اسلام آباد میں۔ یہاں میرے گھر کا گراؤنڈ فلور بدبودار پانی میں ڈوبا ہے، ہر برسات کا موسم گھر میں وائپر مارتے اور گاڑی کا انجن خشک کراتے نکل جاتا ہے۔ مجھے اپنے ٹیکس کے عوض سروس چاہیے وژن کی نقشے بازی نہیں۔‘

حافظ نعیم الرحمان کو کراچی میں قیادت کی اس شدید کمی کا خوب اندازہ تھا، اسی لیے وہ پچھلے کئی ماہ سے ’کراچی کو پانی دو‘ جیسی کئی کامیاب عوامی مہمیں چلاتے رہے ہیں۔  

حافظ نعیم الرحمان سے بات ہوئی تو وہ کراچی کے مسائل کی ایک لمبی فہرست گنوانے لگے، پھر خود ہی کہا کہ ’یہاں تو ہر مسئلہ ہی ارجنٹ لگتا ہے، جماعت اسلامی کی کوشش ہو گی کہ سب سے پہلے شہر میں پانی کی چوری روک کر منصفانہ تقسیم کو ممکن بنائے۔‘

’اور اگر آپ کی جماعت شہری حکومت بنا کر بھی مالی طور پر بےاختیار رہی، فیصلوں میں ہاتھ پاؤں باندھ کر بٹھا دی گئی تو؟ پھر بارش کا پانی کھڑا ہوا تو پبلک آپ کا گریبان پکڑے گی،‘ میں نے سامنے سوال رکھا۔  

’تو ہم ہر حد تک جائیں گے،‘ حافظ نعیم کہنے لگے کہ اختیارات کی بندر بانٹ میں جو ڈیل اندر خانے پہلے ہو جایا کرتی تھی ہم وہ کریں گے نہیں۔ کراچی کے لوگ اپنے سیاسی نظریے، فرقے، مذہب سے بالاتر ہو کر اپنے اعتماد کا وزن ہمارے پلڑے میں ڈالیں۔‘

میں نے ہنس کر کہا، ’ایک ٹویٹ میں خوب کہا گیا ہے کہ جماعت سے جو کچھ نہ بن پڑا کم از کم تبت سینٹر پہ دھرنا تو دے سکتی ہے۔‘

میری رائے میں کراچی والوں کو سنجیدگی سے اپنے شہر کی قیادت چننے کے لیے نکلنا ہو گا، شہر کی اونر شپ خود لینی ہو گی، سیاست میں دلچسپی لینی پڑے گی۔ اپنے نمائندے چن کر ان کے ساتھ شہر کے حق کی آواز بلند کرنے ہو گی۔

شہری حکومت کا کیا ہے، پہلے کی طرح پھر بن جائے گی مگر اس کے پاس پیسہ اور پاور نہ ہو تو سمجھیں مورچے ہوں گے اور سپاہی بھی مگر کراچی یہ جنگ یونہی ہارتا رہے گا۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز