172

لاہور میں ڈرائیونگ کے اہم اصول

اب جب کہ خیبر سے کراچی تک کے لوگ آ کر لاہور میں سیٹل ہو رہے ہیں، تو ان کو سب سے زیادہ پریشانی لاہور کی ٹریفک سے ہوتی ہے۔ وہ لاہور میں ڈرائیونگ کے نفیس فن کے بنیادی اصول سمجھنے سے قاصر ہیں جو کہ اہل لاہور نے پچھلے دو ڈھائی ہزار سال میں ترتیب دیے ہیں۔ ڈرائیونگ کے ان سنہری اصولوں سے یہ ناواقفیت ہم لاہوریوں کے لیے کافی پریشانی کا باعث ہے، اس لیے ہم نے ان نو واردوں کے لیے یہ ہدایت نامہ تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ اس پر عمل کر کے لاہور میں ویسے ہی رہیں جیسے کہ لاہوری رہتے ہیں۔

سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ سڑک پر خواہ آپ پیدل چل رہے ہوں یا کسی سواری پر ہوں، ایسی کسی بھی گاڑی سے نہایت محتاط رہیں جس پر لکھا ہو کہ ‘مجھے دعوت فلانی سے پیار ہے’ یا ‘میرے لیے میرا اللہ ہی کافی ہے’ یا ‘یہ سب میری ماں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے’۔ یہ سب حضرات انسانیت وغیرہ سے تو پیار کرتے ہیں، مگر سڑک پر موجود افراد سے نہیں اور سیدھا ان میں گاڑی ٹھوک دیتے ہیں اور بعد میں استغفار کر کے تمام بوجھ سے آزاد ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح ایسی گاڑیوں سے بھی خبردار رہیں جن کو کوئی خاتون چلا رہی ہوں۔ ممکن ہے کہ ستر اسی کی سپیڈ پر بھی ان خاتون کو یہ خیال آ جائے کہ لپ اسٹک استعمال کر کے ہونٹوں کو سرخ کر لیا جائے، اور گاڑی آپ کو ٹھوک کر وہ آپ کو لالوں لال کر دیں۔ ایسی صورت میں غلطی ہمیشہ آپ ہی کی مانی جائے گی اور عوام وہیں آپ پر خاتون کو چھیڑنے کا الزام عائد کر کے آپ کا انصاف کر دیں۔

اگر سڑک پر کوئی موٹر سائیکل والا نوجوان کرتب دکھا رہا ہو تو اس سے دور رہیں اور قریب جا کر اسے سمجھانے کی کوشش مت کریں۔ وہ آپ کے اس طرح توجہ منتشر کرنے کے باعث اپنی موٹرسائیکل آپ کی گاڑی میں ہی مار بیٹھے گا۔

یاد رکھیں کہ اگر سڑک پر کوئی ویگن، رکشہ، یا گدھا گاڑی وغیرہ چل رہے ہوں تو تمام سڑک پر صرف انہی کا مکمل حق ہے، ان سے معاملہ کرتے ہوئے لکھے ہوئے بے معنی قانون پر صرف اسی صورت میں چلنے کی کوشش کریں اگر آپ اپنی زندگی سے اکتا چکے ہوں اور گاڑی سمیت خودکشی کرنا چاہتے ہوں۔

اسی طرح اگر آپ یہ دیکھیں کہ آپ کے ارد گرد کوئی پرانی سی خوب زخم خوردہ گاڑی چل رہی ہو تو سڑک پر اس کا رائٹ آف وے سب سے بڑھ کر ہے۔ آپ غور کریں تو دیکھیں گے کہ ایسی گاڑی سے سڑکوں کے شہنشاہ یعنی ویگن والے بھی بچ کر چلتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ اس کے پاس کھونے کو مزید کچھ نہیں ہے۔

کسی بھی پیدل چلنے والے شخص کی خاطر گاڑی صرف اسی وقت روکنا مناسب ہے جس وقت وہ آپ کی گاڑی کے ٹائروں کے نیچے پھنس چکا ہو۔ دوسری صورت میں پیچھے سے آنے والی گاڑی آپ کو پوری رفتار سے ٹکر مار دے گی اور ایسے ہولناک حادثے میں کوئی انسانی جان بھی ضائع ہو سکتی ہے۔

اگر کسی سڑک پر سامنے جانے والے راستے پر کوئی عارضی ٹریفک جام ہو، تو آپ کو فوراً سامنے سے آنے والی لین میں اپنی گاڑی ڈال دینی چاہیے۔ خدا مسبب الاسباب ہے، آگے جا کر آپ کو واپس اپنی لین میں آنے کا موقع مل جائے گا اور وہ تمام نکمے لوگ پیچھے رہ جائیں گے جن کو بروقت یہ آئیڈیا نہیں آیا۔

سڑک پر مڑنے سے یا لین بدلنے سے پہلے سگنل کبھی نہ دیں۔ آپ کے ارادے کا پیشگی علم ہوتے ہی دوسرے ڈرائیور آپ کی چال ناکام بنا دیں گے اور آپ کا راستہ بلاک کر دیں گے۔

اگر آپ نے دائیں جانب مڑنا ہو تو آپ انتہائی بائیں لین سے بھی یکلخت مڑ سکتے ہیں اور ایسا کرنے سے پہلے آپ کو پیچھے دیکھنے کی زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جسے خدا نے بچانا ہو گا اسے خود ہی بچا لے گا۔

خواہ آپ نوے سو کی سپیڈ پر ہی گاڑی کیوں نہ چلا رہے ہوں، کسی بھِی صورت میں اپنی گاڑی اور اگلی گاڑی کے درمیان دو تین فٹ سے زیادہ فاصلہ نہ رکھیں کیونکہ ایسی غلطی کرنے کی صورت میں آپ کے دائیں بائیں چلنے والے ڈرائیور اپنی گاڑی وہاں گھسا دیں گے اور آپ ایک مہلک حادثے کا شکار ہو جائیں گے۔

چوک پر سگنل کی بتی سبز یا سرخ سے پیلی ہو رہی ہو تو گاڑی کی سپیڈ دگنی کر دیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زیادہ تر حادثات چوک پر ہی ہوتے ہیں، اور آپ چوک سے جتنی تیزی سے نکل جائیں گے، حادثہ ہونے کا امکان اتنا ہی کم ہو گا۔

اگر سگنل پر اگلی گاڑی پیلی بتی پر نہ چلے تو اسے لمبا ہارن بجا کر انتہائی نرمی سے اس کی غلطی سے آگاہ کر دینا چاہیے۔ باہر نکل کر لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے میں جب آپ اگلی گاڑی تک پہنچتے ہیں تو وہ گاڑی بھگا کر لے جاتا ہے اور آپ کے گاڑی میں بیٹھنے تک سگنل دوبارہ سرخ ہو سکتا ہے اور یوں چوک پر آپ کا تماشا بن جاتا ہے۔

کچھ چوکوں پر آپ کو ایسے جدید اشارے دکھائی دیں گے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ سگنل کتنی دیر میں بند ہو گا یا کھلے گا۔ دونوں صورتوں میں آخری دو چار سیکنڈ میں بلا کھٹکے گاڑی کو پوری رفتار سے چوک سے گزار دیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے، چوک سے جتنی جلدی گزر جائیں اتنا ہی محفوظ رہیں گے۔

اگر آپ کا اشارہ سبز ہے تو چوک کو کراس کرنے سے پہلے گاڑی کو نہایت آہستہ کریں اور خوب احتیاط سے دائیں بائیں دیکھ لیں۔ کوئی پتہ نہیں ہے کہ کوئی جنونی گاڑی پوری رفتار سے غلط سمت سے لا رہا ہو۔

کسی وجہ سے اگر بریک لگانی ہی پڑ جائے تو عین آخری لمحے پر فل بریک دبا دیں۔ اس سے گاڑی کی روڈ گرپ کا اندازہ بھی ہوتا ہے اور اے بی ایس بریک بھی چیک ہو جاتی ہے کہ صحیح کام کر رہی ہے یا اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

سڑک پر آپ کو گول گول سے بورڈ دکھائی دیں گے جن پر ایک کالے دائرے میں پچاس، ساٹھ، ستر وغیرہ ٹائپ نمبر لکھے ہوتے ہیں۔ یہ سنگ میل ممکنہ طور پر یہ اس جگہ کا فاصلہ بتا رہے ہیں جہاں آپ کو جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں نظرانداز کر دیں۔

اگر آپ درمیان والی لین میں چل رہے ہوں اور سامنے کوئی سست رفتار گاڑی آ جائے، اور بائیں طرف جگہ موجود ہو تو پوری کوشش کریں کہ تیز ترین رفتار سے بائیں طرف سے اوور ٹیک کریں۔ دائیں طرف کی لین تیز رفتار گاڑیوں کے لیے مخصوص ہے۔ کوئی پتہ نہیں کون جنونی پیچھے سے آ رہا ہو اور آپ کو ٹکر مار دے۔

سڑک پر ایل ڈی اے نے جا بجا ایسے گڑھے کھود رکھے ہیں جن سے بچنے کے لیے گاڑی کی لین کو یکلخت تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں سوچنے کا وقت نہیں ہوتا ہے، گڑھے میں گر کر گاڑی کی الائنمٹ خراب ہو سکتی ہے، اس لیے بریک پر پاؤں رکھے بغیر گاڑی کو پوری رفتار سے فوراً دائیں یا بائیں لہرا کر بچا لیں۔ اگر پیچھے کوئی جنونی ڈرائیور آ رہا ہو اور آپ سے گاڑی ٹکرا دے تو یاد رکھیں کہ غلطی پیچھے والے کی ہی ہوتی ہے۔

کسی جگہ کوئی حادثہ دکھائی دے، یا سڑک کنارے کوئی ٹائر تبدیل کر رہا ہو، تو آپ کو چاہیے کہ گاڑی نہایت آہستہ کر کے دیکھیں کہ کیا معاملہ ہے۔ ضرورت پڑے تو گاڑی وہاں روک کر تفصیلی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ انسانی ہمدردی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ ممکن ہے کہ اسے کسی کی مدد کی ضرورت ہو، اور اس طرح رکنے کے سبب آپ کے پیچھے مجبوراً رکنے والی گاڑی اس کی مدد کر دے۔

اگر سڑک پر رش زیادہ ہو، اور آپ دائیں ترین لین میں بھی ہوں اور ہدایات کے مطابق اگلی گاڑی سے صرف دو فٹ پیچھے ہوں، اور پیچھے سے ایک گاڑی آ کر بتیوں سے اشارے کرتے ہوئے ہارن بجانے لگے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ آپ کی ڈرائیونگ کی صلاحیت پر شبہ کر رہا ہے اور اسے یقین ہے کہ وہ جام سڑک پر بھی اگلی گاڑی کو اوور ٹیک کر لے گا۔ اسے نظر انداز کر دیں۔ کچھ دیر میں یا تو وہ تھک جائے گا ورنہ اس کی بتی یا ہارن خود ہی خراب ہو کر بند ہو جائیں گے۔

خاص طور پر شدید دھند، آندھی یا بارش کے موسم میں ان ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور گاڑی کو ممکنہ حد تک تیز چلائیں تاکہ جلد از جلد گھر پہنچ کر محفوظ ہو سکیں۔ ورنہ دوسرے ڈرائیور آپ سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے جو کہ آپ کی توہین ہے۔

اس طرح بچنے والے وقت میں آپ اپنی منزل پر وقت سے پہلے پہنچ جائیں گے اور فارغ بیٹھ کر خوب غور و فکر کر سکیں گے کہ لاہور کی ٹریفک اتنی بری کیوں ہے۔

بشکریہ ہم سب