215

جیمز ویب: ناسا کے سائنسدان زمین کو کائنات کا مرکز مان گئے

ہر ذی شعور پاکستانی اس امر سے واقف ہے کہ مغرب کی تمام تر سائنسی اور اخلاقی ترقی کا راز اسلامی اصولوں کی پیروی کرنا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اسلام سے اچھی اچھی باتیں لے کر اپنے معاشرے میں رائج کر دیں بلکہ انہوں نے مسلمان سائنسدانوں سے لیا ہوا علم استعمال کر کے ہی عقل کو دنگ کر دینے والی سائنسی ترقی کی ہے۔ لیکن انہوں نے محض اس طرح شرافت سے علم نہیں لیا جیسے مسلمانوں نے یونانیوں سے لیا تھا، یعنی محض ترجمہ کر کے ایک کاپی اپنے پاس رکھ لی اور علم اصل جگہ پر چھوڑ دیا۔ بلکہ مغرب نے تو ساری سائنس اور اخلاقیات ہی مسلمانوں سے چرا لیں۔ یوں یہ دونوں چیزیں اب مغرب کے پاس ہیں مگر ہمارے پاس نہ رہیں۔

کل سے جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ (جیمز جالا خلائی دوربین) کا بہت چرچا ہو رہا ہے۔ اس کی جاری کردہ تصاویر سب لگائے بیٹھے ہیں۔ کیا ہمیں کاپی رائٹ اور علمی سرقے کا سبق پڑھانے والے امریکیوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ دوربین اصل میں آپٹکس کے بانی عظیم مسلمان سائنسدان ابن الہیثم کی تحقیق کا نتیجہ ہے؟ کیا اس کا نام ابن الہیثم یا اس کے مغربی تلفظ الحزن پر مبنی نہیں ہونا چاہیے تھا؟ یا کم از کم اس کے کریڈٹ پیج پر ہی ابن الہیثم کا نام ڈال دیتے۔ مگر نہیں۔ انہیں تو ہمارا علم چرانے سے مطلب ہے۔ اور وہ یہ تسلیم بھی نہیں کرتے کہ انہوں نے ہمارا علم چرایا ہے ورنہ دنیا پر ہماری برتری ثابت ہو جائے گی۔

خیر اس علمی بد دیانتی کو فی الحال نظرانداز کرتے ہیں اور اصل موضوع پر آتے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ دوربین خلا میں لاکھوں میل دور جا کر اس مقام کی تصویریں کھینچے گی جہاں بگ بینگ ہوا تھا۔ نوٹ کریں کہ بگ بینگ ایک سائنسی اصطلاح ہے، اسے تولید انسانی کی کوشش کے متعلق معاشرتی اصطلاح سمجھنا شاید غلط ہو گا۔

اہل مغرب تسلیم کرتے ہیں کہ پہلے کائنات میں مادہ نہیں تھا، بس ہر طرف نور ہی نور چھایا ہوا تھا۔ سائنسدان اس نور کو توانائی یا روشنی کا نام دیتے ہیں۔ پھر ایک نقطے میں زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں نور مادے میں تبدیل ہو گیا۔ بے شمار ستارے سیارے بن گئے۔ یوں کائنات کا جنم ہوا۔ بگ بینگ کا یہ وقوعہ کوئی پونے چودہ ارب سال قبل ہوا تھا۔ زمین کی عمر یہی سائنسدان کوئی ساڑھے چار ارب سال پرانی بتاتے ہیں، یعنی بگ بینگ کے دس گیارہ ارب برس بعد زمین وجود میں آئی۔

لیکن اب جیمز ویب کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے بتایا جا رہا ہے کہ جو روشنی بگ بینگ کے مقام سے ساڑھے تیرہ ارب برس قبل چلی تھی، وہ جیمز ویب دوربین تک اب پہنچ رہی ہے۔ جیمز ویب دوربین اس روشنی کو پکڑے گی اور کیمرے کے پردے پر منتقل کر کے ہمیں ارسال کر دے گی۔ یوں ہمیں ان لمحات کی تصویر مل جائے گی جب بگ بینگ ہوا ہی تھا اور ستارے جنم لے رہے تھے۔

جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ کے ڈپٹی پراجیکٹ سائنٹسٹ جوناتھن گارڈنر نے میڈیا کو بتایا ”ویب دوربین ماضی کا وہ وقت دیکھ سکتی ہے جب بگ بینگ ہوا ہی تھا۔ ایسا وہ ان دور دراز کہکشاؤں کو تلاش کر کے کرتی ہے جہاں سے روشنی کو ہماری دوربینوں تک پہنچنے میں کئی ارب سال لگتے ہیں“ ۔

اس تصویر کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ اس میں بگ بینگ کے وقوع پذیر ہونے کے کچھ بعد کی روشنی موجود ہے۔

اب نوٹ کریں کہ یہ کیا کہا جا رہا ہے۔ یعنی بگ بینگ کے وقت جو روشنی چلی، وہ اب زمین تک پہنچ رہی ہے۔ اب دو صورتیں ہیں۔ یا تو زمین اور نظام شمسی بھی بگ بینگ کے مقام سے روشنی کی رفتار سے چل کر اپنے موجودہ مقام تک پہنچ گئے تھے، یا پھر زمین یہاں پہلے ہی موجود تھی جہاں بگ بینگ کی روشنی اب پہنچ رہی ہے۔

پہلی بات کی تردید تو سائنسدان خود کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مادہ روشنی کی رفتار سے چلے تو مادہ نہیں رہتا بلکہ خود روشنی بن جاتا ہے۔

اب ظاہر ہے کہ دوسرا امکان ہی باقی بچا ہے۔ یعنی بگ بینگ ہونے کے وقت زمین یہاں پہلے ہی موجود تھی۔ یوں زمین پہلے بنی اور کائنات یعنی اس کا آسمان بعد میں بنا۔ قدیم سمیریوں اور بابلیوں کے وقت سے کل عالم کا حال جاننے والے مذہبی راہنما ہمیں یہی بات تو بتاتے آ رہے ہیں کہ پہلے زمین بنی تھی، اور بعد میں آسمان۔ لیکن سائنسدان یہ بات ماننے کو تیار نہیں۔ وہ مصر ہیں کہ کائنات پہلے بنی تھی اور زمین بعد میں۔

وہ تو کہتے ہیں کہ سب سے پہلے بگ بینگ ہوا۔ پھر کائنات بننی شروع ہوئی۔ ستارے بنے۔ کہکشائیں بنیں۔ ان کھربوں کہکشاؤں میں سے ایک ہماری کہکشاں ملکی وے ہے جو باقی کے مقابلے میں بہت ننھی منی ہے۔ سورج اس کہکشاں کا ایک بہت چھوٹا سا ستارہ ہے۔ اور زمین اس ستارے کا ایک چھوٹا سا طفیلی سیارہ ہے جو اس وسیع کائنات میں مٹی کے ایک ذرے سے بھی کم مایہ ہے۔

لیکن حقیقت کب تک چھپ سکتی ہے۔ جیمز ویب کی تعریفیں کرتے ہوئے سائنسدان خود تسلیم کر چکے ہیں کہ زمین پہلے ہی سے موجود تھی اور ستاروں کی تخلیق کے وقت کی روشنی اس تک اب پہنچ رہی ہے۔ یعنی وہ شیخی بگھارتے ہوئے نادانستگی میں یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ کائنات کا مرکز ہماری زمین ہے۔

اب وہ چاہے جیسی مرضی تصاویر دیں یا مساوات کہ ایسی بات نہیں لیکن اصل بات ہمیں پہلے ہی سے پتہ ہے۔ امید ہے کہ جلد ہی سائنسدان یہ بات بھی تسلی کر لیں گے کہ زمین گول نہیں چپٹی ہے۔

بشکریہ ہم سب