493

جج اور جنرل

گزشتہ ہفتے دنیا ٹی وی کے دفتر کے باہر محترم صحافی اور ٹی وی مبصر، ایاز امیر صاحب پر کچھ نقاب پوش افراد نے دن دیہاڑے حملہ کر کے انھیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ بظاہر ان کا مقصد امیر صاحب سبق سکھانا تھا کیوں کہ وہ اسٹبلشمنٹ کی ماضی اور حال کی غلط کاریوں کو کھلے عام بیان کرتے تھے۔ اس واقعے کا ایک پہلو یہ ہے کہ انھیں خود کو خوش قسمت سمجھنا چاہیے کیوں کہ اس ”جرم“ کی پاداش میں عام انسان تو عارضی یا ہمیشہ کے لیے ’غائب ”کر دیے جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ریاست کی سرپرستی میں ہونے والی اس غنڈا گردی کی بھرپور مذمت کی جائے۔ اس وقت تک ہر قابل ذکر صحافی، میڈیا تنظیم اور سیاسی جماعت نے یہی کیا ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ اس مذمت کے باوجود یہ مذموم فعل بہت ڈھٹائی سے جاری رہے گا کیوں کہ کوئی سولین حکومت اس کے خاتمے کی ہمت نہیں رکھتی (اور اسٹبشلمنٹ کی حمایت سے وجود میں آنے والی پی ڈی ایم کی حکومت تو ہر گز نہیں، گرچہ محض رسمی طور وزیر اعظم شہباز شریف نے وعدہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے گا)۔ اچھی خبر یہ ہے کہ سر پر منڈلاتے ہوئے خطرے کے باوجود اب زیادہ سے زیادہ افراد اس موضوع پر اپنی سوچ کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ اونٹ خیمے میں گھس چکا ہے۔ یقیناً اس کا قبضہ ہے۔ لیکن اب وہ نہ تو نظروں سے غائب ہے اور نہ ہی مقدس مانا جاتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے۔

اتنی ہی غیر معمولی بات عدلیہ کا سیاست زدہ ہونا، اور سیاست کا عدلیہ زدہ ہونا ہے۔ یہ صورت حال 2009 ء کی وکلا تحریک سے دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس تحریک میں افتخار محمد چوہدری کی قیادت میں حرف انکار ادا کرنے والے ججوں کو بحال کرایا گیا۔ اس سے پہلے اسٹبلشمنٹ کی وحشیانہ قوت یا منتقم مزاج مقبول عام سولین لیڈر کے سامنے کسی سولین جج کو سرتابی کی ہمت نہیں تھی۔ وہ آئین اور قانون کے خوف ناک اسقاط میں بخوشی رضامند معاونین بن جاتے، یا واقعہ پیش آنے یا آمر کے رخصت ہونے کے بعد اپنے خوابیدہ ضمیر کو جگاتے اور فیصلہ دیتے۔ اس عالم میں یہ افتخار محمد چوہدری جیسے کسی ”جرات رندانہ“ رکھنے والے سرپھرے شخص کی ضرورت تھی جو اس تمام جنگل میں چنگاری پھینک کر فوجی آمر کو نکال باہر کرے۔

لیکن وہ ”آزادی“ ذاتی عزائم، بزدلی یا بدعنوانی کی بھینٹ چڑھ گئی۔ ثاقب نثار اور آصف کھوسہ جیسے چیف جسٹس اسٹبلشمنٹ کے ہاتھ میں کھلونے بن گئے۔ ان کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ نے کسی آکٹوپس کی طرح تمام ادارے پر اپنی گرفت جما لی۔ کچھ دیگر نے اشارہ ملنے پر توازن کی کوشش کی۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران عدلیہ کے سیاست زدہ ہونے کے تاثر کو ان حقائق نے تقویت دی کہ درمیانے شہری طبقے سے تعلق رکھنے والی عدلیہ بھی فوج کی طرح سٹیٹس کو کی نمائندہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے خلاف عمران خان کے مقبول بیانیے کی حامی ہے۔ اس لیے اس نے حزب اختلاف کو ذرہ برابر سانس لینے کی گنجائش نہیں دی جب کہ اسٹبلشمنٹ اور عمران خان اس کے خلاف توپوں کے دہانے وا کیے ہوئے تھے۔

سوشل میڈیا اس کھلے تعصب کی داستانوں سے بھرا پڑا ہے۔ چاہے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں ایک اور توسیع کے متعلق آئینی جواز گھڑنا ہو، عمران خان کے بنی گالا کو ریگولرائز کرنا ہو، تحریک انصاف کے ممنوعہ فنڈنگ کیس کو سات سال تک دبائے رکھ کر عمران خان کو ریلیف دینی ہو یا صادق اور امین کے حلف کی کھلی خلاف ورزی کرنے والے عمران خان کو مورد الزام ٹھہرانے سے گریز کرنا ہو، جج حضرات نے خود پارسائی کے زعم میں تمام معاملات میں آئین اور قانون کو نظر انداز کرنے کا وتیرہ اپنائے رکھا۔

اب ہم اپنے سیاسی ارتقا کے ایک اور غیر مرحلے میں داخل ہوچکے، جسے عدلیہ زدہ سیاست کہا جاسکتا ہے۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب عمران خان کی معمول کے مطابق آئین اور قانون کی پامالی کو 2021 ء کے آخری ایام میں اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہ رہی۔ عدلیہ نے فوراً ہی بندوق کی طاقت کو تسلیم کر لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بلیک میلنگ کی لٹکتی ہوئی تلوار بھی سر پر تھی (جیسا کہ سابق چیئرمین نیب کا کیس تھا)۔ تو سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیر معمولی طریقے سے عمران خان کے پر کترنے کے لیے قینچیاں تیار کر لیں جب وہ اسٹبلشمنٹ پر جھپٹنے کے لیے تیار تھے۔

اس پیش رفت نے حزب اختلاف کو بھی عمران خان کے سیاسی فیصلوں (جیسا کہ لانگ مارچ وغیرہ) کو چیلنج کرنے کا حوصلہ دے دیا۔ اس پر عمران خان نے مجبور ہو کر ججوں سے درخواست کرنا شروع کردی کہ وہ غیر جانبداری چھوڑ کر اس کا ساتھ دیں۔ اب ہم ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں طرفین ججوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ سیاسی طرف داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو آئین اور قانون کی بجائے ”زمینی حقائق“ کی بنیاد پر نمٹائیں۔ تحریک انصاف کے پچیس منحرفین کے ووٹوں کی منسوخی ”اخلاقیات“ کے نام پر غیر آئینی مداخلت کی ایک اور نمایاں مثال ہے۔ حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر برقرار رکھنے اور تحریک انصاف کو سترہ جولائی تک اپنے غیر حاضر اراکین کو اکٹھا کرنے کا وقت دیتے ہوئے ججوں نے آئین اور قانون کی بجائے سمجھوتا کرنے کی ایک اور مثال قائم کردی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ججوں نے حمزہ شہباز، عمران خان اور پرویز الہی کو عدالت سے باہر مل بیٹھ کر کوئی حل نکالنے کا حکم دیا ہے۔

ان تبدیل ہوتے ہوئے حالات میں عدلیہ اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان قائم ہوتے ہوئے تال میل پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ آنے والے دنوں میں یہ تعلق مزید توانا ہوتا دکھائی دے گا۔ سولین حکمرانوں کے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کا درد سر مول لینے کی بجائے مستقبل کے جمہوری بندوبست کی ہائبرڈ نوعیت کا یہ کسی جھنجھٹ سے پاک اقدام ہے۔ پاکستان میں طبقے اور ریاست کی روایتی سماجی ساخت میں عدلیہ کو ایگزیکٹو کی باندی سمجھا جاتا تھا۔ اب ایگزیکٹو اتھارٹی اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ اس لیے عدلیہ نے با اختیار ہاتھ کی انگلی کا اشارہ بھانپنے میں مطلق دیر نہیں لگائی۔ اب اگر سولین حکمران حکم کی تعمیل میں تامل کا مظاہرہ کریں تو مارشل لا کی دھمکی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اب عدلیہ ہی اسٹبلشمنٹ کی ایما پر ان کے فیصلے منسوخ کرنے دھمکی دے کر انھیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے گی۔

تو نئے پاکستان میں خوش آمدید! اب اسٹبلشمنٹ کی اصطلاح ماضی کی طرح فوج کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ اب فوج اور عدلیہ کا گٹھ جوڑ اس ”ڈیپ“ اسٹیٹ اور ”کھلے“ معاشرے میں فعال دکھائی دے گا جہاں ججوں کی براہ راست معاونت کے ساتھ جنرل حکومت کریں گے۔

بشکریہ ہم سب