16

سند ھ کا مقد مہ

(گزشتہ سے پیوستہ)

ضلع سانگھڑ شعر وادب کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔ پنجاب اور اردو کے نامور شاعر اکبر معصوم کا تعلق سانگھڑ سے تھا۔ ارشد علی عرشی مزاحیہ شاعر ہیں۔ ان کی شاعری اردو، سندھی، پنجابی، سرائیکی اور رانگڑی زبان میں موجود ہے۔ سانگھڑ سیاحت کے لحاظ سے بھی اہم ہے۔ ضلع سانگھڑ میں بقار جھیل سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔ اس جھیل میں کشتی رانی کرتے وقت یا یہاں تصاویر بناتے وقت یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ دنیا کے کسی خوبصورت ترین خطے میں آگئے ہوں۔ ضلع سانگھڑ نے کئی ایک نامور شخصیات کو جنم دیا۔ سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ جام صادق علی کا تعلق سانگھڑ کی تحصیل جام نواز علی سے تھا۔ جام صادق علی ساما خاندان کےذیلی قبیلے جام کے نواب تھے۔ سیاست کے میدان میں جام مدد علی خان بھی رہے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور قومی اسمبلی کے موجودہ اسپیکر راجہ پرویز اشرف 26 دسمبر 1950ء کو سانگھڑ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کالج کے زمانے تک سانگھڑ کو اپنا مسکن بنایا، اب وہ گوجر خان راولپنڈی سے الیکشن لڑتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے ممتاز فنکار انور سولنگی شہداد پور میں پیدا ہوئے۔ معروف الغوزہ نواز اور بانسری نواز غوث بخش بروہی ضلع سانگھڑ کے قصبے سرہاری کے رہائشی ہیں۔ غوث بخش بروہی کو صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی سے نوازا جا چکا ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر، ممتاز محقق، مورخ، ماہر سندھیات اور ماہر تعلیم ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ ضلع سانگھڑ میں پیدا ہوئے۔ پاکستانی کرکٹر نعمان علی کھپرو ضلع سانگھڑ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے پہلا ٹیسٹ میچ 2021 میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا۔ بائیں بازو سے اسپن بائولنگ کروانے والے نعمان علی پی ایس ایل میں ملتان سلطانز کی طرف سے کھیلتے ہیں۔ ضلع سانگھڑ میں عورتوں کی ترقی کے لیے وہاں کی رہائشی حمیدہ مسعود شاہ نے بہت کام کیا۔ سندھ میں ضرب المثل بن جانے والے وڈیرے جام کانبھو خان یہیں کے تھے۔

کپاس کی پیداوار میں سندھ کا ضلع سانگھڑ پہلے نمبر پر ہے۔ ضلع میں بہت سی جننگ فیکٹریاں ہیں۔ ضلع سانگھڑ میں تحصیل کا درجہ رکھنے والے شہر کھپرو سے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ کھپرو ایک خوبصورت اور تاریخی شہر ہے۔ اس شہر سے آگے سینکڑوں میل تک پھیل ہوا سفید ریگستان ہے جہاں کبھی دریائے سرسرتی بہا کرتا تھا۔ اب وہ کہیں ریت کے نیچے دب چکا ہے۔ اس ریگستان میں دور تک پھیلی ہوئی سیپیاں سیاحوں کو متوجہ کرتی ہیں۔ لوگ ڈیزرٹ سفاری کے لیے دبئی کا رخ کرتے ہیں یہاں کھپرو کے پاس بھی ڈیزرٹ سفاری شروع کی جاسکتی ہے۔ یہاں خوبصورت جھیلیں بھی ہیں، ان جھیلوں میں پانی رنگ بدلتا ہے۔ ضلع سانگھڑ میں چوٹیاری ڈیم کی سیر کرتے کرتے آپ 90 سال پرانی جونیجو حویلی کی سیر بھی کرسکتے ہیں۔ اس ریگستان میں آپ کو اونٹ بہت نظر آتے ہیں۔

سندھ کا تاریخی شہر برہمن آباد، شہداد پور سے تیرہ کلومیٹر دور ہے۔ محمد بن قاسم کی فتوحات کے بعد برہمن آباد کا نام المنصورہ رکھا گیا۔ اب یہ منصورہ کے نام سے مشہور ہے۔ ٹنڈو آدم ضلع سانگھڑ کی ایک تحصیل ہے۔ ٹنڈو آدم شہر میںسندھی اردو اور پنجابی کے علاوہ دیگر زبانیں بولی جاتی ہیں۔ شہر کے آس پاس دیہی علاقو ںمیں پنجابی اور سرائیکی کا رواج زیادہ ہے۔ ہندوئوں کی نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے بھیل اور کولہی اس تحصیل میں آباد ہیں۔ ریلوے جنکشن کے طور پر مشہور ٹنڈو آدم شہر میں چار ہائی اسکول اور ایک کالجہے۔ یہ کالج ماسٹر درجے تک ہے۔ قیام پاکستان سے قبل ہی یہ شہر ایک کاروباری اور علم پرور شہر کے طور پر مشہور تھا۔ اس شہر کا شاہی بازار کاروباری سرگرمیوں کا بڑا مرکز ہے۔ ٹنڈو آدم 1955ء تک ضلع نواب شاہ کا حصہ تھا پھر اسے ضلع سانگھڑ میں شامل کیا گیا۔ ٹنڈو آدم شہر کی بنیاد اٹھارویں صدی میں میر آدم خان نے رکھی تھی۔ ضلع سانگھڑ کا بڑا صنعتی زون ٹنڈو آدم کی جناح روڈ پر ہے۔ یہاں پاور لوم انڈسٹری، ماچس فیکٹریز، فارما سوٹیکل انڈسٹری، پیپرز انڈسٹری، کاٹن جننگ فیکٹریز، اور ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹریز ہیں۔ اس شہر میں بڑی تعداد میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے اورہسپتال ہیں۔

ضلع سانگھڑ کے ایک گائوں سے تعلق رکھنے والی شامو بائی کی وجہ شہرت صوفیانہ کلام اور بھجن ہیں، شامو بائی کی گائیکی کوک سٹوڈیو تک پہنچ گئی ہے۔ ضلع سانگھڑ ہی کے ایک گائوں سے تعلق رکھنے والے مانجھی فقیر مشہور صوفی گائیک ہیں۔ ان کا گائوں شہداد پور سے 21 کلومیٹر دور برہون شہر سے متصل ہے، گائوں کا نام محمد علی دودانی ہے۔ یہاں مانجھی فقیر کے والد دُر محمد فقیر کی درگاہ ہے۔

میر پور خاص ڈویژن تین اضلاع پر مشتمل ہے، انگریز کے دور میں تو اسے تھرپار کر کے نام سے ایک ضلع بنایا گیا تھا جس کا ہیڈکوارٹر عمرکوٹ تھا۔ جسے 1906 میں میرپورخاص شہر میں منتقل کردیا گیا۔ 1990ء تک یہ ضلع تھرپارکر ہی رہا، اس کے بعد 1992ء میں تھرپارکر سے ایک اور ضلع عمر کوٹ کے نام سے بنایا گیا۔ پھر کچھ وقت کے لیے عمر کوٹ کی یہ حیثیت ختم کر دی گئی تھی مگر ارباب غلام رحیم نے اقتدار میں آ کر اس کی ضلعی حیثیت بحال کی۔ میر پور خاص پاکستان کا واحد ڈویژن ہے جس میں 46 فیصد ہندو آباد ہیں۔ عمر کوٹ ضلع ہندو اکثریت کا حامل ہے۔ (جاری ہے)

بشکریہ جنگ نیوزکالم