13

خود کو وطن سے وابستہ کریں

اس نے غرور حسن میں کیا کچھ کہا مجھے جو جی میں اس کے آیا وہی کہتا گیا مجھے ٹوٹا کچھ اس کمال سے دل کا یہ آئینہ بٹ کر یہ کرچیوں میں بھی اچھا لگا مجھے اور پھر وحشت کہیں اسے یا مرے پائوں کی طلب اس کی طرف ہی لے گیا ہر راستہ مجھے اور ایک رومانوی سا شعر اے سعد چاہتوں میں بڑا لطف تھا اگر چاہا تھا جس کو میں نے وہی چاہتا مجھے۔اس کا تعلق کچھ کچھ سیاست میں ضرور ہے۔ کیا کیا جائے موجودہ سیاست میں جو چیز سب سے زیادہ زخمی ہوئی وہ اعتماد ہے اور جو شے سرے سے عنقا ہو گیا وہ سچ ہے اب تو یہ مقابلہ ہے کہ کون زیادہ سے زیادہ جھوٹ بول سکتا ہے۔بات کہہ مکر جانے کا فن کس کے پاس ہے۔اس کی بھی کوئی پروا نہیں کہ اپنے ہاتھوں ہم خود ہی غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو بیانیہ اور ہوتا ہے اور جب محروم ہو جاتے ہیں تو بیانیہ 180ڈگری پر گھوم جاتا ہے اور اپنے دشمن کے بیانیہ کو اپنا بنا لیا جاتا ہے۔ ہمارے سیاستدان اپنا وطیرہ بدلنے کے لئے تیار نہیں۔اب ایک لمحے کے لئے سوچئے کہ ن لیگ کا ہنگامی اجلاس لندن طلب کر لیا گیا ہے انسان سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔خدا کے لئے آپ سوچتے کیوں نہیں کہ آپ کی عیدیں اور شبراتیں لندن میں۔کاروبار اور جائیدادیں باہر پھر ہم اپنے ملک کو کھیتی سمجھیں کہ جو صرف پیدا کرتی ہے مگر اصل سرمایہ کاری کہیں اور ہے۔ بہت سخت بات کر گیا ہوں مگر کیا کروں دل جلتا ہے۔یہ کوئی بات ہے کہ زرداری اٹھتے ہیں تو دبئی بیٹھ کر اجلاس طلب کر لیتے تھے جب تک آپ کا جینا مرنا پاکستان میں نہیں ہوتا آپ لاکھ یقین دلاتے رہیں محب وطن یقین نہیں کریں گے۔ آپ کہیں اور ہم نہ بتائیں ایسے تو حالات نہیں ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں سچی بات یہ ہے کہ ہم اندھے عقائد اور اندھے اعتماد کے مارے ہوئے لوگ ہیں اپنی عقل استعمال نہیں کرتے ابھی ابھی میں سید منور حسن شاہ مرحوم کا ایک کلپ سن رہا تھا سن کر میں بہت دیر تک سوچتا رہا کہ ہم سوچتے کیوں نہیں۔ وہ فرما رہے تھے کہ اگر شہر کو آنے والا پانی راستے میں کسی گٹر کے ساتھ بہم ہو جائے اور پینے والے پانی میں گٹر کا پانی بھی شامل ہو کر گھروں میں پہنچنے لگے تو یہ کبھی نہیں ہو گا کہ مسجدوں سے اعلان کروا دیا جائے کہ آپ اپنے گھروں کے نل بسم اللہ پڑھ کر کھولیں انشاء اللہ درست پانی آئے گا یا اس کو صاف کرنے کے لئے ہم کسی تعویز کا سہارا نہیں لیں گے۔ہم بہت سمجھدار لوگ ہیں ہم واسا سے کہیں گے یا متعلقہ اتھارٹی سے رابطہ کریں گے کہ بندوست کیا جائے کہ گٹر کا پانی شامل نہ ہو مگر ہم کیا ہیں کہ اسلامی نظام کی بات ہو تو ہم کہتے ہیں بس دعا کریں ہماری سیاست میں لاکھ گندگی شامل ہوتی رہے ہم دلچسپی لیتے ہیں۔ذرا نہیں سوچتے کہ اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے مگر نہیں اپنے لیڈر کا جھوٹ حکمت ہے۔اپنے لیڈر کی بددیانتی حکمت ہے حق کے ساتھ باطل کی ملاوٹ ایک آرٹ نہیں بلکہ پرلے درجے کی بددیانتی ہے: لوگ مجھ پر یقین کرتے ہیں جھوٹ بولوں گا اب میں جی بھر کے ہم سچ کیوں نہیں بولتے کہ حرص و ہوس کا دور دورہ ہے۔ ہمارا موقف یہ تھا کہ باقی ڈیڑھ سال حکومت کو دیا جائے مگر اپوزیشن پر بھوت سوار تھا جانتے تھے کہ مہنگائی کو روکنا ممکن نہیں کہ لوگوں کی جیبوں پر آئی ایم ایف نے ڈاکہ ڈال دیا تھا۔یوں کہہ لیں کہ وہ اپنے قرضہ جات یا واجبات لینے آئے تھے۔ یہاں تک تو بات پہنچ گئی کہ سٹیٹ بنک ان کے حوالے کر دیا اور یہ کہنا کہ خود مختاری یا سالمیت کچھ مسائل تو ایسے پیدا ہوتے ہی ہیں۔ باتیں دہرانے کا کچھ فائدہ نہیں اب جب مسائل کا سامنا کرنا پڑا تو شہباز شریف کے ہاتھ پائوں پھول گئے لوگوں کی توقعات تو یہی تھیں کہ شہباز شریف ہی سہی کہیں سے ریلیف ملے چند یوم تو گزر گئے کہ پٹرول وغیرہ نہیں بڑھا ۔۔سب کچھ نظر آ رہا۔مہنگائی کم نہیں ہو رہی مرغی چار صد سے اوپر چلی گئی۔ہاں انڈے سستے ضرور ہوئے کہ گرمی میں کون کھائے اب اپنے کپڑے بیچ کر تو آٹا پورا نہیں کیا جا سکتا۔چلیے ہمیں یہ محاورہ بھی اتنا برا نہیں لگا کہ چلو غریبوں کے کپڑے اتروائے تو نہیں۔مگر مستقبل میں کچھ بھی بعید نہیں۔عجیب سا ماحول ہے ایک ہنگامے پہ موقوف گھر کی رونق۔ ادھر جلسے جلوسوں کی فضا ہے اور ان میں جو زبان و بیان ہے اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ وہی اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اب ان کے طرفداروں کا بن کر رہ گیا ہے جبکہ یہ بھی طے ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ ہوتے ہیں یا حکومت ان کی ہوتی ہے۔شاید یہ زیادہ تلخ حقیقت ہے مختصر بات یہ کہ منصفانہ انتخاب میں موجودہ اویزش کا حل ہے۔بلکہ اگر بلدیاتی انتخاب بھی ہو جائیں تو اچھی بات ہے مگر جھگڑا تو یہ بھی ہونا باقی ہے کہ انتخاب کروائے گا کون۔لندن کا ہنگامی اجلاس بھی شاید اسی لئے ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ن لیگ کو نقصان پہنچے گا۔پیپلز پارٹی وقت مانگے گی مقابلہ ن لیگ اور پی ٹی آئی میں ہو گا۔عوام اب بھی فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا۔؟؟بہت سی ہلاکتیں خواہش و طلب کے تحت ہوتی ہیں‘‘۔

 

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز