24

چولستان میں موت کا رقص

گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے، درجہ حرارت بڑھنے سے سورج سوا نیزے پر آگیا ہے۔ دوسری طرف وسیب میں پانی کی شدید قلت کے باعث نہ صرف یہ کہ فصل خریف کی کاشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ چولستان میں قحط سالی عروج پر ہے۔ پانی نہ ہونے کے باعث مرنے والے جانوروں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے۔ وسیب کے لوگ مسلسل فریاد کناں ہیں مگر توجہ نہیں دی جا رہی۔ دیگر مسائل کے حل کیلئے تو اجلاس بلا ئے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم کو بھی لندن طلب کر لیا گیا ہ مگر چولستان کے مسئل پر توجہ نہیں دی جا رہی جہاں زندگیاں دائوں پر لگی ہوئی ہیں۔ ہم نے روزنامہ 92 نیوز کے فورم پر سب سے پہلے چولستان میں پانی کی کمی کے ایشو کو ہائی لائٹ کیا تو ہمارے مخالفوں نے کہا کہ چولستان میں کوئی جانور نہیں مرا، پرانی تصویریں لگائی جا رہی ہیں، مگر وسیب کے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے موت کے منظر دیکھے اور سوشل میڈیا پر تصویریں ہائی لائٹ ہوئیں تو مقامی صحافی بھی وہاں پہنچے اور انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ پانی کی قلت کے حوالے سے چولستان میں تاریخ کا بد ترین عذاب آیا ہوا ہے۔ روزنامہ 92 نیوز بہاولپور عبدالقدوس کی سروے رپورٹ کے مطابق صحرائے چولستان میں شدید خشک سالی کے آثار ، ٹوبے خشک ، درجہ حرارت 50سینٹی گریڈ کو بھی کراس کر گیا ، حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات انتہائی ضروری ہیں ۔66لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلا چولستان جس میں کئی ماہ سے بارشیں نہ ہونے سے ان دنوں خشک سالی کا راج ہے ، جانور تو جانور انسان بھی پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں ، بارشیں نہ ہونے کے باعث پانی کے قدرتی ذخائر ٹوبے اور جوہڑ ریت کی چادر اوڑھ چکے ہیں ۔ چولستانیوں کی بڑی تعداد چکوک اور سرکاری پانی کی پائپ لائنوں پر منتقل ہو چکی ہیں۔ چولستان کے علاقہ ڈیراور ، ٹوبہ سلطان شاہ ، لنگاہ والا ، مروٹ کے چولستانی علاقہ کے علاوہ جگیت پیر کے ٹوبہ جات چڈھڑا والا ، دولو جمال ، نواں پرھاڑاں ، ٹوبہ سراں ، باہو والا ، عام والا ، شیر خان ، کالے پاڑٹھنڈی کھوئی ، جام سر ، قائم سر ، نور سر ، بلوچاں ، حیدر والا ، سکندر والا ، اسلام گڑھ کے نواب والا ، سوڑیاں ، پنچ کوہی ، شیخ والا ، ٹوبیاں والا ، کنڈیرا ، آلے والا ، ٹوبہ کھارڑی ، پچھال ، بوہڑ والا ، گڈلہ ، مٹھو والا ، کرم والا ، دینے والا ، اچل والا ، گلو والا قطب والی ، بھمبھے والا ، تچکوٹ ، ڈاک والا سمیت چولستان کے 1100ٹوبوں میں سے 95فیصد خشک ہو چکے ہیں ، خشک سالی بڑھنے کی وجہ سے جانوروں کے لئے چارہ بھی ناپید ہو گیا ہے ، جنگی جڑی بوٹیاں تک سوکھنے لگی ہیں ،مویشیوں کے لئے چارہ اور پانی نہ ہونے کے باعث چولستان کے باسی اپنے لاکھوں جانوروں کے لے کر آبادیوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک سروے کے مطابق چولستان میں چار پائپ لائنوں جن میں 92 کلو میٹر کی پائپ لائن کھالڑی تا چک نمبر108ڈی بی ، 87کلو میٹر کی چک نمبر111ڈی این بی تا نواں کوٹ ،43کلو میٹر کی کھتڑی ڈاہر تا طوفانہ اور 54کلو میٹر کی میر گڑھ تا چوڑی میں 24گھنٹے پانی کی فراہمی بغیر کسی تعطل کے جاری ہے اور ان چار پائپ لائنوں سے یومیہ 34ہزار سے زائد انسان اور 60ہزار جانور مستفیذہو رہے ہیں جو کہ لاکھوں جانوروں کے لئے ناکافی ہے اور اس کے علاوہ پنجاب حکومت کی جانب چے چولستانیوں کو پانی کی فراہمی کے لئے پانچ ایکسٹینشن پائپ لائنیں جن میں35کلو میٹر نواں کوٹ تا غرارہ ،25کلو میٹر ڈیراور تاکنڈی والا ، 72کلو میٹر کڈوالا تا بناں چوکی ،45کلو میٹر ڈھوری تا سوڈکا ، ساڑھے27کلو میٹر رسول سر تا بجنوٹ مکمل ہو کر ٹیسٹنگ کے مراحل میں ہیں ، یہ پانچ ایکسٹینشن پائپ لائنیں جون 2018ء میں فنکشنل ہونی تھی مگر تا حال چولستان کو پانی فراہم نہیں کر سکی ۔ ٹوبہ کٹانے والا ، ٹوبہ قصائی والا ، گورکن ، لاکھن ، پٹھانی والا ، ہاڑیوالا ، بوہڑ والا ، ڈھوری والا اور بھالے والا کے لوگوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کے جانوروں کے لئے خوراک اور پانی کا بندوبست کیا جائے ورنہ ان کے لاکھوں جانور پیاس اور بھوک سے مر جائیں گے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے اگر گرمی کی شدت 45 سے مزید دو چار گریڈ اور بڑھتی ہے تو سخت نقصان کا خطرہ ہے۔ گرمی کی شدت بڑھنے سے بجلی کی کھپت میں اضافہ ہو چکا ہے، لوڈشیڈنگ بڑھ چکی ہے اور وسیب کے لوگ سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ چیف سیکرٹری سائوتھ کیپٹن (ر) ثاقب ظفر نے چولستان میں جانوروں کی اموات اور پانی کی عدم دستیابی کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو ہنگامی اقدامات کی حمایت کی ہے۔ جبکہ سیکرٹری زراعت ثاقب علی عدیل نے بھی سرائیکی وسیب اور چولستان میں پانی کی قلت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ واٹر باوئزرز کے ذریعے پانی کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ دوسری طرف سرائیکی وسیب کے کاشتکار پانی کی قلت کے حوالے سے سراپا احتجاج ہیں۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ اپریل کے وسط تک بھل صفائی کا عمل مکمل کرکے فصل خریف کیلئے پانی فراہم کر دیا جاتا تھا مگر اب اپریل تو کیا مئی کا وسط آگیا ہے مگر نہروں میں پانی نہیں چھوڑا گیا۔ جس کے باعث بحران پیدا ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ حکومت کو تو اقتدار کی آویزش سے فرصت نہیں، وسیب کے مسئلے کون حل کرے گا۔ ٭٭٭٭٭

 

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز