16

جام ساقی، کمیونسٹ سازش کیس (آخری حصہ)

 

مصنف روداد جام ساقی کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ جام ساقی کیس کے بڑے ملزم کامریڈ جام ساقی 10دسمبر 1978 کو حیدرآباد کے رہائشی علاقہ پیر آباد کے داؤد منشن کی سیڑھیوں سے گرفتار ہوئے جہاں وہ اپنے ایک دوست سے روپوشی کی حالت میں ملنے آئے تھے۔

جام ساقی کو ایک گھنٹہ سٹی تھانہ لاک اپ میں رہنے کے بعد آنکھوں پر پٹی باندھ کر عقوبت خانے پہنچایا گیا تھا جہاں انھیں پیشکش کی کہ اگر وہ سیاست سے کنارہ کش ہوجائیں تو انھیں رہا کر دیا جائے گا۔ جام نے یہ پیشکش مسترد کی تو انھیں پیشکش کی گئی کہ اگر وہ شیر باز مزاری کی جماعت ڈی پی میں شمولیت اختیار کرلیں تو حکومت نہ صرف انھیں رہا کر دے گی بلکہ نفع بخش کاروبار، زمین اور نقد رقم فراہم کرے گی۔

جام ساقی کو چار ماہ لاہور کے شاہی قلعہ کی اذیت گاہ میں قید رکھنے کے بعد 15جولائی کو کراچی منتقل کیا گیا۔ عدالت کے واضح احکامات کے باوجود اخبارات سے محروم رکھا۔ 11ستمبر کو ان کی اپنے والد محمد سچل سے ملاقات کرائی گئی۔

اس ملاقات کے دوران اپنی محبوب بیوی مائی سکھیاں کی خودکشی کا علم ہوا، بعد ازاں حیدرآباد میں قائم کی گئی خصوصی عدالت نے انھیں دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی۔ ان کی گرفتاری کے تقریباً سوا دو سال بعد کراچی سے دیگر ترقی پسند کارکنوں کی گرفتاری کے بعد انھیں کمیونسٹ سازش کیس میں شامل کیا گیا۔

جام ساقی نے حیدرآباد کی خصوصی عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیاست میں مداخلت جاری رہی تو معاملات بگڑ جائیں گے۔ یہ بیان 29 جون 1980 کو دیا تھا۔ نذیر عباسی 9 اگست کو تفتیشی مرکز میں ہلاک کر دیے گئے۔

اسلم خواجہ کی کتاب جام ساقی، کمیونسٹ سازش کیس کے دوسرے باب میں دانشور مجسمہ ساز بدر ابڑو کی آپ بیتی بیان کی گئی ہے۔ بدر نے لکھا ہے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس موٹے تگڑے افراد ان کے دفتر میں داخل ہوئے۔ انتہائی روکھے لہجے میں کہا گیا ’’ تم نذیر عباسی کے مقدمہ میں مطلوب ہو۔ اب وقت خراب نہ کرو۔ تمہارے ساتھ اتنی رعایت ہے کہ اپنے گھر اطلاع کرو‘‘ تفتیش کا طریقہ کار مکمل طور پر جارحانہ تھا، ماحول تبدیل کرنا ان کے لیے پلک جھپکنے کا کام تھا۔

سہیل سانگی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’یہ محض اتفاق تھا کہ میں روزگار کی تلاش میں کراچی آیا اور گرفتار ہوگیا۔ مجھے آج تک اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی ہے جس کے تحت میری گرفتاری ہوئی۔

شاید میری زندگی کو برتنے کا زاویہ ان سے مختلف ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اس زاویہ کی وضاحت کر دینی چاہیے، شاید یہاں پر اس کی ضرورت ہے۔‘‘ سہیل سانگی نے لکھا ہے کہ محمد احمد وارثی کے دفتر سے بس میں بیٹھ کر کوارٹر پہنچے جہاں کمال وارثی رہتے تھے۔

ایک کوارٹر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک نا آشنا سا اور نامعلوم چہرہ نظر آیا۔ سہیل سانگی نے اپنے بیان کا اختتام اس پیراگراف سے کیا ہے کہ میں مطمئن ہوں کہ میں نے اپنی چھوٹی سی بچی زیب کو انسانیت، اس کی اعلیٰ اقدار، انسانی ہمدردی اور جرات کی جو کہانیاں سنائی تھیں اس پر قائم ہوں، غداری نہیں کی۔ زندگی اور قید کوئی معنی نہیں رکھتے۔

احمد کمال وارثی نے اپنے بیان میں کہا کہ اپنے کمزور استغاثہ اور کمزور دستاویزی شواہد کی وجہ سے جب استغاثہ اس مقدمہ میں شامل تمام افراد کے مابین تعلق ثابت نہ کرسکا تو یہ فریضہ عدالت نے اپنے سر لے لیا۔ شبیر نے اپنے بیان میں کہا کہ جب مجھ پر گوریلا کارروائی ہوئی تو حکومت نے دیکھا کہ میں نے پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ تلاش کے دوران میرے پاس ساڑھے تین سو روپے برآمد ہوئے۔

پھر بھی وہ مجھ سے خوفزدہ ہے۔ امرلال نے اپنے بیان میں کہا کہ نذیر عباسی کو سامراجی ایجنسیوں اور عوام دشمنوں نے یہ سوچ کر شہید کردیا کہ اس طرح نذیر عباسی کی سوچ اور اس کی تحریک رک جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نذیر عباسی کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔

انگریزی کے استاد اور اس مقدمہ کے بڑے ملزم پروفیسر جمال نقوی نے اپنے بیان میں کہا ’’ دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے صرف یہ کافی نہیں ہے، ہم نیک رہے ہیں، بلکہ ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ ہم ایک بہتر اور زیادہ خوبصورت دنیا دے کر جا رہے ہیں۔

مجھے عوام کی سیاست میں حصہ لینے کے جرم میں اس مقدمہ کا سامنا کرنا پڑا۔ میرے خلاف چارج شیٹ میں لگائے گئے الزامات جھوٹے ثابت ہوچکے تھے۔‘‘ دفاع کے گواہ خان ولی خان نے کہا کہ ’’مجھ پر میرے ساتھیوں پر حیدرآباد سازش کیس میں الزام یہ تھا کہ میں نظریہ پاکستان کا مخالف ہوں، استغاثہ مطالبہ کر رہا تھا کہ مجھے پھانسی دی جائے کیونکہ میں نظریہ پاکستان کا مخالف ہوں۔

میں نے وکیل صفائی سے اس الزام کی قانونی حیثیت بیان کرنے کی درخواست کی تھی۔‘‘ وکیل صفائی نے کہا تھا کہ ’’قانون کی کتابوں میں نظریہ پاکستان کی تعریف درج نہیں ہے۔‘‘ معراج محمد خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ جام ساقی نے نظریہ پاکستان کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔ جام نے نظریہ پاکستان کی مبہم تشریح کی مخالفت کی جو مفاد پرست عناصر نے پھیلائی ہوئی ہے۔‘‘ 1940ء کی قرارداد میں قائد اعظم کا کہنا تھا کہ ’’ یہ ملک خودمختار ریاستوں کا وفاق ہوگا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’حکومت کی مخالفت کو ریاست کی مخالفت نہیں سمجھنا چاہیے۔‘‘ سید محمد شاہ امروٹی نے صفائی کے گواہ کی حیثیت سے کہا کہ ’’اسلام ہمیں برابری اور بھائی چارہ کا درس دیتا ہے۔ اسلام میں مارشل لاء کا تصور نہیں ہے۔‘‘

منہاج برنا نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’سہیل سانگی سچے اور ایماندار صحافیوں میں سے ایک ہیں، میں سہیل سانگی کو محب وطن سمجھتا ہوں۔‘‘ خصوصی عدالت نے دو ملزمان شبیر شر اور احمد کمال وارثی کو 7سات قید کی سزا سنائی تھی اور پروفیسر جمال نقوی کا مقدمہ سول کورٹ میں دیا گیا تھا۔ باقی ملزمان کو اس مقدمہ سے بری کر دیا گیا مگر یہ تمام افراد مارشل لاء کے خاتمہ کے بعد رہا ہوسکے۔

اس مقدمہ میں ایس اے ودود، علی امجد، یوسف لغاری، رشید رضوی، اختر حسین جیسے وکلاء نے رضاکارانہ بنیادوں پر ملزمان کی پیروی کی۔ کانفرنس کی کارروائی کے دوران مقدمہ کے ملزمان نے نذیر عباسی کے قتل کی تحقیقات کرانے کے مطالبہ کو منوانے کے لیے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ بھی کیا۔ اس کتاب میں استغاثہ کے گواہوں کے بیانات اور ان پر ہونے والی جرح کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ صفائی کے وکلاء کی جرح کے دوران پولیس کے گواہوں کے بیانات میں تضادات اور استغاثہ کے تضادات کھل کر سامنے آئے۔

یہ کتاب بائیں بازو کی تحریک سے دلچسپی رکھنے والے افراد پاکستان کی سیاسی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد طلبہ اور تحقیق کرنے والوں کے لیے معلوماتی کتاب ہے۔

بشکریہ ایکسپرس