14

ہمارا کراچی ، ہمارا ملک

قائد اعظم محمد علی جناح کے آخری ریکارڈ شدہ الفاظ کچھ یوں تھے۔ ’’ ہر مسلمان کو دیانت داری ، خلوص اور بے غرضی سے پاکستان کی خدمت کرنی چاہیے۔‘‘

قائد اعظم پچیس دسمبر 1876 کوکراچی کے قدیم علاقے کھارادر میں پیدا ہوئے تھے اس زمانے میں یہ علاقہ کاروباری حضرات کے لیے بے پناہ موزوں تھا اور سندھ ، بلوچستان اور پنجاب کے دور دراز علاقوں سے تجارت کراچی کی بندرگاہ سے ہوتی تھی اور بندرگاہ سے نزدیک اس زمانے میں لین دین یعنی رقومات کے تبادلے کے لیے بینک تو تھے نہیں لہٰذا اس زمانے میں مالدار لوگوں نے ایک طرح کے نجی بینک بنا رکھے تھے یہ چھوٹے پیمانے کے تھے اور اس زمانے میں ان کے اپنے اصول و ضوابط تھے۔

کھارادر جس طرح آج کچھی ، میمن، مارواڑی قوموں سے بسا ہے بلکہ آج دیگر لوگ بھی یہاں بستے ہیں لیکن اس دور میں خاص کر چند یہی قومیں بستی تھیں، قوموں سے مراد ان کی مخصوص زبان ہے۔ کراچی اس وقت اس قدر وسیع نہ تھا آج کل کے ڈیفنس، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، پی ای سی ایچ ایس اور لاتعداد عام اور پوش علاقوں میں اس وقت محض خاک ہی اڑتی تھی۔

بات ہو رہی تھی ان نجی بینکوں کی طرح فرموں کی جن میں سے ایک فرم یعنی جناح پونجا اینڈ کمپنی بھی اسی طرح کا ایک ادارہ تھا جو خاصا منافع بخش تھا۔ اس طرح کی فرموں میں گو آج کل کے بینکوں کی طرح کھاتوں کے طویل اصول و ضوابط تو نہ تھے لیکن زبانی جمع خرچ کی بنیاد پرکام نہایت ایمان داری سے ہوتا تھا، یہ تو کراچی کی ایک کاروباری صورت حال تھی جس کی کچھ تفصیل قائد اعظم کی زندگی پر لکھی جانے والی کتاب ’’میرا بھائی‘‘ سے ملتی ہے جو محترمہ فاطمہ جناح نے تحریر کی تھی۔

پاکستان بننے سے قبل ہی کراچی کی بہت اہمیت تھی، پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور ہوائی اڈا بھی یہاں تھا ، یہی وجہ تھی کہ 1947 سے 1960 تک پاکستان کا دارالحکومت کراچی ہی تھا، جس کی باقاعدہ پلاننگ کی گئی تھی اور یہی خیال تھا کہ مستقبل میں اس شہر کو بین الاقوامی طرز پر اس طرح تعمیر کیا جائے گا جو دارالحکومت کے پورے لوازمات سے پر ہو لیکن 1959 میں یہ طے ہو گیا کہ پاکستان کا دارالحکومت اب کراچی کی جگہ اسلام آباد ہوگا تو سارے منصوبے دھرے رہ گئے لیکن کراچی کی آبادی اور معیشت میں ترقی کی رفتار بڑھتی ہی رہی۔ملک بھر سے ہی نہیں بلکہ آس پڑوس کے ممالک جیسے افغانستان، بنگلہ دیش ، برما اور ہندوستان سے لوگ یہاں آ آ کر بستے رہے اور اپنا رزق تلاش کرنے کے چکر میں اس شہرکو آلودگی سے بھرتے رہے۔

یہ ایک ایسا المیہ ہے کہ جس کا پرسان حال شاید کوئی بھی نہیں، آوازیں اٹھتی رہیں کہ کراچی کو اپناؤ لیکن سب اسے نوچ نوچ کرکھاتے ہی رہے، کوئی اسے اپناتا نہیں، کھاتے ہیں، کماتے ہیں اور چھٹیاں منانے اپنے اپنے گھونسلوں میں لوٹ جاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب کراچی میں سڑکیں دھلا کرتی تھیں اور آج یہاں شہری پانی کو ترس رہے ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں تو بننے میں برسوں درکار ہوتے ہیں اور جو بنی ہوئی ہیں ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت اسے بگاڑنے کی کوشش کی جاتی ہے ، یہاں تک کہ سڑک کے کنارے فٹ پاتھ اور پلوں کے ارد گرد حفاظتی باڑھ پر نظر دوڑایے جسے باقاعدگی سے اکھاڑ کر برباد کیا جا رہا ہے لیکن شاید ہم سب میں سے کسی کو یا ذمے دار اداروں کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں، بس ٹینڈر بھرے جاتے ہیں اور کام سنوارنے کی کوشش ہو جاتی ہے۔

قبضہ مافیا کا یہ عالم ہے کہ پہلے چند اینٹیں اکھاڑی جاتی ہیں یا کہیں کچے پکے جھونپڑے بنائے جاتے ہیں اور پھر وہ اس قدر پکے ہو جاتے ہیں کہ ایک بستی رجسٹرڈ ہو جاتی ہے یا اینٹیں اکھڑنے کے بعد دیکھا جاتا ہے کہ کہیں سے آواز تو نہیں اٹھی اور پھر اونٹ اور خیمے والی کہانی شروع ہو جاتی ہے جو آج کل پارسی کالونی اور اس سے ملحق علاقے میں جاری ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کراچی والوں کے پاس دل نہیں ہے۔

اگر کسی نے دیکھنا ہے تو دیکھے یہاں رفاہی ادارے اس قدر بانٹتے ہیں اور کھلاتے ہیں کہ رمضان میں ہم جیسے سفید پوش بھی سڑکوں کے کنارے مرغی اور بکرے کے تکے سینکتے دیکھ کر رشک کرتے رہے، کہتے سنا ہے کہ کراچی والوں کے پاس پیسہ بڑا ہے اور یہاں اس قدر ٹیکس ادا کیا جاتا ہے کہ یہاں کا ایک معمولی شاپنگ پلازہ اتنا ریونیو دیتا ہے جتنا لاہور شہر ادا کرتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں یہ شہر امیر بھی مشہور ہے، گندا بھی مشہور ہے اور سوتیلا ، مظلوم بھی مشہور ہے۔

’’ہاں بھئی! کہاں سے آ رہے ہیں؟‘‘

سوال سندھی میں پوچھا گیا تھا اور پھرگفتگو اردو میں شروع ہوگئی۔

’’ سر ! دوست کے گھر سے۔۔۔۔۔ قریب ہی ہے یہاں سے۔‘‘ عید کی موج مستی میں بچے خاصے مسرور تھے۔

’’موٹرسائیکل کس کی ہے؟‘‘

’’ میرے والد کی۔‘‘

’’ پھر تمہارے پاس کاغذات بھی نہیں ہوں گے۔‘‘

بچے شرمندہ ہو رہے تھے ، اتنے میں ایک موٹرسائیکل ٹھیلے والا پھٹ پھٹ کرتا آیا ، ٹھیلے پر سبزی رکھی تھی۔

’’ ہے۔۔۔۔ہے۔۔۔۔رک۔۔۔۔رک۔‘‘

’’ صاحب! سبزی والے ہیں۔‘‘

سبزی والا ہی تھا ، بڑی مشکل سے رکا ، غصے میں ایک تھپڑ رسید کیا گیا۔

’’ یہ کیا ہے۔۔۔۔اس طرح کھلا بم لے کر گھومتا ہے ، اگر تیرے اس کھلے پٹرول بم پر غلطی سے بھی کسی کی سگریٹ یا ماچس کی تیلی گر گئی تو اپنے ساتھ تو دوسروں کو بھی لے کر مرے گا اور یہ کیا رکھا ہے، اس ٹوکرے میں؟‘‘

’’ صاحب ! یہ گلی سڑی سبزیاں ہیں۔‘‘

’’ توگلی سڑی سبزیاں لے کر گھومتا ہے۔‘‘

’’ صاحب ! پھینک دوں۔۔۔۔ چلیں پھینک دیتا ہوں۔‘‘

ناں ناں کرنے کے باوجود سبزی والا گلی سڑی سبزیوں کا ٹوکرا لے کر سڑک کے کنارے بنے صاف ستھرے فٹ پاتھ پر ڈالنے لگا۔

’’جب منع کر رہے ہیں توکیوں ڈال رہا ہے یہ گلی سڑی سبزیاں۔ تم جیسے لوگ ہی ہیں جوکراچی شہر کو گندا کرتے ہیں ، اٹھا یہ گند یہاں سے اورکچرا خانہ میں ڈال۔ اور بچو ! تم بھی کسی کو اس طرح کچرا پھینکتے دیکھو تو اداروں سے شکایت کرو اور خود بھی منع کرو ، یہ ہمارا فرض ہے۔‘‘

سبزی والے کو مخاطب کرتے ہوئے۔ ’’ تم لوگ باہر سے آتے ہو یہاں کمانے کے لیے اور اسی جگہ کوگندا کرتے ہو۔ اس کو اپنا سمجھو گے تو اس کے بارے میں سوچو گے نا۔‘‘

اس جوان کی گفتگو نے ایک بار پھر حوصلہ دیا کہ اس پرانے گھسے پٹے موضوع پر لکھا جائے۔ یاد رہے یہ ہمارے قائد اعظم کا کراچی ہے۔ ہمیں اپنے شہر ، اپنے ملک کی دیانت داری ، خلوص اور بے غرضی سے خدمت کرنی چاہیے کہ یہ ہمارا فرض ہے۔ ذرا ذمے داری دکھائیے اور پھر دیکھیے صاف ستھرا کراچی روشنیوں کا شہر۔ اپنی وسیع بانہیں کھولے مہربان ماں کی مانند ہمارا منتظر ہوگا۔

بشکریہ ایکسپرس