9

پاکستانی ریاستی نظام کا نیا چیلنج

پاکستان کی ریاست اور معاشرے کا ایک نیا ابھرتا چیلنج آزادی اظہار کے نام پر جاری وہ مہم ہے جو لوگوں کو تقسیم کرنے، اداروں کے خلاف منفی سوچ پیدا کرنے ، نفرت اور تعصب کی لہر، غصہ اور ردعمل کی سیاست سے جڑی ہے ۔سوشل میڈیا اپنی جگہ رہا، اب تو رسمی میڈیا سمیت سیاسی میدان یا علمی و فکری محاذ پر جو جنگ آزادی اظہار کے نام پر جاری ہے، وہ ریاستی نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

تنقید اور تضحیک کے درمیان جو فرق ہوتا ہے اسے عملی طور پر نظرانداز کردیا گیا ہے اور مخصوص خیالات و نظریات کے لوگ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے بلا خوف وججھک وہ سب کچھ لکھ اور بول رہے ہیںیا الفاظ استعمال ہورہے ہیں، ان سے نمٹنا ہی بڑا چیلنج ہے۔کیونکہ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنا اورایک دوسرے کے خیالات کے مقابلے میں مجموعی طور پر انتہا پسندی یا شدت پسندی کے بیانیہ کو اختیار کرنا ریاستی مفاد کے خلاف ہے ۔

مجموعی طور پر ہم مکالمہ کے کلچر سے دو رہوگئے ہیں او را س کی جگہ اپنی اپنی سوچ اور فکر کو جبر او رطاقت کی بنیاد پر ایک دوسرے پرمسلط کرنے کی روش نے ایک دوسرے کی قبولیت کو مشکل بنادیا ہے۔یہ سمجھنا کہ سچ وہی ہے جو میں سوچ رہا ہوں اور اسی سچ کو دوسروں کو بھی قبول کرناہے عملاً ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ بحران فوری طور پر پیدا نہیں ہوا اورنہ ہی اس کی ذمے داری کسی ایک فریق پر ڈال کر ہم اپنی اپنی جان چھڑاسکتے ہیں۔ بنیادی طورپر معاشرے میں موجود تمام فریقین جن میں اہم فریقین بھی ہیں، اس بحران کے حقیقی ذمے دار ہیں ۔ ہم نے وقتی طور پر اپنے مفاد کے حصول کے لیے سیاسی مخالفین یا اداروں کی مخالفت کی بنا پر ایک ایسے ایجنڈے کو تقویت دی ہے جو بلاوجہ معاشرے میں انتشار کو پھیلانے کا سبب بن رہا ہے ۔

یہ جو ریاستی پالیسی تھی جس میں ایسے سنگین اورحساس معاملات پرقانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے بجائے جو سمجھوتوں یا اپنی پسند و ناپسندی کی بنیاد پر پالیسی کو لانا، چلانا یا اس کو پس پشت ڈالنا ہی ہمارا قومی جرم ہے ۔اس لیے جو کچھ معاشرے میں ہورہا ہے اس میں ہم سب برابرکے ذمے دار ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ یہ جو معاشرے میں مجموعی طور پر انتہا پسندی یا شدت پسندی پر مبنی رجحانات کو طاقت ملی ہے، اس کا مقابلہ اب نئی صورتحال میں کیسے کیا جائے ۔ ایک علاج ہم نے ردعمل پر مبنی پالیسی کے طور پر تلاش کرلیا ہے ۔ جب بھی کوئی بڑا واقعہ ہوتا ہے یا کوئی ایسی مہم چلتی ہے جو عملی طو ر پر ریاستی نظام کے لیے خطرہ ہوتا ہے تو ہم جامع پالیسی کے بجائے یا ان معاملات کے محرکات کو سمجھنے کے بجائے محض روزانہ کی بنیاد پر ردعمل کی سیاست کی حکمت عملی کو اختیار کرکے آگے بڑھتے ہیں۔

ہمارے پاس اس انتہا پسندی او رشدت کا مقابلہ کرنے کے لیے لانگ ٹرم ، مڈٹرم اور شارٹ ٹرم پالیسی میں بہت سے تضادات ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہم حالات کی اس سنگینی پر کافی رنجیدہ بھی ہیں او رپریشان بھی مگر اس سے کیسے نمٹنا ہے، اس پر ٹھوس حکمت عملی یا عملدرآمد کے نظام کا فقدان ہے۔ عدلیہ ، فوج یا دیگراداروں پر تنقید کے نام تضحیک کا پہلو ہو یا سیاسی جماعتوں سمیت سول سوسائٹی یا میڈیا کے محاذ پر تنقید اورتضحیک کے نام پر جاری کھیل ہو اس نے عملا ہمارے ریاستی نظام کو سب کے سامنے تماشہ بنادیا ہے ۔

یہاں ہر کوئی اداروں کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد پر اپنا بیانیہ تشکیل دیتا ہے۔ان میں افراد انفرادی سطح پر بھی ہیں او رادارہ جاتی سطح پر بھی، سب ہی اپنے اپنے بیانیہ کی جنگ میں سرگرم ہے۔کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے مخالف نقطہ نظر یا مخالف سوچ کے فرد کے لیے اس حدتک آگے چلے گئے ہیں کہ ریاستی یا معاشرتی نظام کا مفاد بھی عزیز نہیں۔اس صورتحال کے ذمے دار محض عام افراد یا عوام نہیں بلکہ وہ خواص ہیں جو عملی طو رپر رائے عامہ بنانے کے عمل کا حصہ ہیں۔

کیونکہ یہاں اوپر کی قیادت نے اپنے ذاتی مفاد کے حصول کے لیے لوگوں کو تقسیم بھی کیا او ران میں سیاسی ، مذہبی یا لسانی بنیادوں پر نفرت کا ماحول بھی پیدا کیا۔ سیاسی نظام میں موجود محاذ آرائی پر مبنی سیاست کے بالادست ایجنڈے نے قومی سیاست کو ایک منفی سیاست کے طورپر پیش کیا ہے۔

اس کھیل میں ’’مخالفانہ سیاست ‘‘ کا ہی بیانیہ کو بالادستی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس قومی منفی سیاسی ایجنڈے نے پورے رائے عامہ کے افراد یا اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ہم نے نوجوانوں کے ہاتھ میں سوشل میڈیا کی نئی طاقت تو دے دی ہے مگر اب یہ ہی طاقت ریاستی نظام کو چیلنج بھی کررہی ہے۔ آج کا نوجوان ماضی کے نوجوان سے مختلف ہے۔

اس میں سیاسی و سماجی شعور بھی ہے اوروہ حالات کو چیلنج کرنے کا ہنر اور طاقت بھی رکھتے ہیں۔ حالات و واقعات میں جو پس پردہ کھیل ہے وہ بھی اب ان سے کوئی زیادہ چھپا نہیں رہا او ریہ ہی وجہ ہے کہ ان میں پس پردہ جاری کھیل یا سازشی امو رپر بھی سخت ردعمل پایا جاتا ہے ۔ وہ یہ ردعمل عملا دے بھی رہے ہیں او رکہیں وہ اس ردعمل میں سرخ لائن کو عبور بھی کرجاتے ہیں ۔

معاشرے یا سیاسی محاذ پر موجود سیاسی تقسیم کو کم کرنے میں ایک بڑا سیاسی ہتھیار مکالمہ ہوتا ہے۔ اسی مکالمہ کی بنیاد پر یا مفاہمت کو بنیادبنا کر ہم اپنے سیاسی مسائل کو سیاسی اور جمہوری انداز میں حل کرسکتے ہیں ۔

لیکن سیاست کے نام پر جو طوفان بدتمیزی یہاں رواج پاچکی ہے اس کا ہم کو ایک بڑا اور مربوط علاج تلاش کرنا ہوگا ۔یہ علاج محض قانون سازی ، پالیسی سازی یا ڈنڈے کی بنیاد پر نہیں چل سکے گا بلکہ اس کا ایک بڑا او رموثر علاج قومی بیانیہ کی تشکیل کی صورت میں ہی ممکن ہے ۔

لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑنا ہوگا اور ان کو باور کروانا ہوگا کہ ان کا جارحانہ یا منفی طرز عمل ریاست، ملک او رمعاشرے کے مفاد میں نہیں ۔ یہ ماننا ہوگا کہ ہمارا مجموعی تعلیم اور میڈیا کا نصاب یا نظام شدت پسندی کو پھیلانے کا سبب بن رہا ہے۔ بالخصوص نوجوان نسل کو ایک مثبت ایجنڈے کے ساتھ جوڑنا اوران میں نفرت یا تعصب سمیت ردعمل کی سیاست سے باہر نکالنا ہی بڑا چیلنج ہے ۔

اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمیں جن ٹھوس بنیادوں پر کام کرنا ہے، اس کا فقدان خود ایک بڑا چیلنج ہے ۔ کیونکہ جب ہماری قومی یا ریاستی سطح کی ترجیحات میں کافی مسائل ہوں تو بحران سے نمٹنا اور زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔

ریاست اور حکومت سمیت اداروں کو سمجھنا ہوگا کہ جو کچھ آج سیاسی و مذہبی تقسیم کی بنیاد پر معاشرے یا اداروں کو درپیش ہے اس کا علاج ان کو اپنی حکمرانی کے بحران میں بھی تلاش کرنی چاہیے۔

کیونکہ ہمارا مجموعی طو رپر حکمرانی کا نظام ہی لوگوں میں سیاسی، سماجی ، معاشی اور قانونی استحصال کا سبب بن رہا ہے۔ہمیں اس وقت ریاستی نظام کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے روایتی ا ور فرسودہ طو رطریقوں سے باہر نکل کر جدیدیت کے طور طریقوں اور دنیا کے عملی تجربات سے سیکھ کر اور اپنے معاشرے کا حقیقی تجزیہ کرکے درست حکمت عملی اور ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا۔یہ ہی ہمارے ریاستی مفاد کا حصہ ہے او راسی کو بنیاد بنا کر ہمیں آگے بڑھنا چاہیے ۔

بشکریہ ایکسپرس