10

معاشی بدحالی اور علاج

فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے،کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف۔قوموں کے عروج و زوال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ قوموں کا حساب کتاب یہیں اس دنیا میں چکا دیا جاتا ہے۔

آخرت میں ہر انسان کو فرداً فرداً اپنا حساب دینا ہو گا۔1965کی جنگ سے پہلے ہم تیزی سے ترقی کرتی ہوئی قوم تھے لیکن شاید ہماری معیشت میں ابھی وہ دم خم پیدا نہیں ہوا تھا کہ ہم جنگ کی تباہ کاریوں سے عہدہ براہ ہو سکیں۔بہر حال پانچ،چھ دہائیوں سے ہماری معیشت بتدریج زوال پذیر ہے اور کانوں میں یہی صدا سنائی دیتی ہے کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے۔

نہ جانے یہ نازک دور کب ختم ہوگا اور کب وہ روشن صبح طلوع ہوگی جب پاکستان کی سیاست ہیجان سے نکل آئے گی اور ہمارا یہ پیارا ملک معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا، ایک تابناک مستقبل کا حامل ملک بنے گا۔فی الحال پاکستان کی معیشت شدید ہچکولے کھا رہی ہے ۔ہماری معیشتFiscal Deficit یعنی شدید مالیاتی خسارے کی لپیٹ میں ہے۔اس حقیقت کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ ہماری قومی آمدنی کے مقابلے میں ہمارے اخراجات کہیں زیادہ ہیں جس کے اثرات ہماری پوری معیشت پر دکھائی دیتے ہیں۔

ہمیں اپنے اخراجات کو گھٹانے اور قومی آمدنی کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔یہ کہنا شاید بہت آسان ہے اور کرنا بہت ہی مشکل ہو ۔زندہ باہمت قوموں کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہوتا لیکن ہمارے لیے اس بھنور،اس گرداب سے نکلنا آسان نہیں لگتا کیونکہ ہمیں اس کا احساس ہی نہیں۔قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن۔

پاکستانی حکومت کے سامنے جو بڑے بڑے اخراجات ہوتے ہیں، ان میں اندرونی اور بیرونی قرضہ جات کی ادائیگی، ملکی دفاعی ضروریات کا پورا کرنا،سول حکومت کو چلانا اور ترقیاتی بجٹ کے لیے رقوم کی فراہمی شامل ہیں۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ ہماری قومی آمدنی اتنی قلیل ہے کہ قر ضہ جات کی اقساط کی ادائیگی اور ملکی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد باقی کچھ نہیں بچتا۔ایسے میں باقی ہر قسم کے اخراجات کے لیے قرضے لینے پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ان حالات میں ہمیں سب سے پہلے تو اپنی سول حکومت کا سائز کم کرنے کی طرف پوری توجہ دینی پڑے گی اور ساتھ ہی حکومتی مشینری کو Efficient بنانا ہوگا۔ہمارے زیادہ تر ادارے انگریزی راج کے ابتدائی دور میں نافذ ہونے والے ACTSکے تحت معرض وجود میں آئے۔ان ہی Actsاور ان کے تحت بنے قوانین کو پاکستان کے نام سے معمولی ردو بدل کے ساتھ لاگو کر دیا گیا۔

یہ قوانین موجودہ دور میں بڑی ترامیم مانگتے ہیں۔ہمارے ادارے باقی دنیا کے اداروں سے مختلف نہیں ہیں۔ ہمارے ادارے بھی وہی کام کر رہے ہیں جو باقی دنیا کے ادارے کر رہے ہیں۔ہمارے اداروں کی Efficiencyجانچنے کے لیے کسی ملک کے ایسے ہی ادارے کی کارکردگی سے موازنہ ہمیں بتا دیتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ قوانین اور حکومتی مشینری کو عوام دوست بنا کر Efficientحکومت کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔

ہماری معیشت دیوالیہ پن کے قریب ہے۔ایسے لگتا ہے معیشت کو دلدل سے نکالنا اس حکومت کے بھی بس کا روگ نہیںالبتہ چند ضروری فوڈ آئیٹمز اور شہروں کے اندر عام آدمی کی سہولت کے لیے چلنی والی ٹرانسپورٹ کے علاوہ باقی ہر شعبے کو ملنے والی سبسڈی فوری واپس لے کر معیشت میں وقتی جان ڈالی جا سکتی ہے۔ہاں ایسا کرنے سے پہلے زوردار آگاہی مہم چلا کر عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔پچھلی کئی دہائیوں سے ہر وزارت،ہر ادارہ Incremental بجٹ لینے کے لیے وزارتِ خزانہ سے رجوع کرتا ہے۔ پچھلے سال جتنا بجٹ تھا اس کا دس سے پندرہ فیصد بڑھا کر مانگ لیا جاتا ہے۔

اس اپروچ کے بجائے اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ پچھلے سال کی کارکردگی واضح کر کے نئی بجٹ تجاویز مرتب کریں۔ہمیں سیاست و حکومت دونوں شعبوں میں کارکردگی پرکھنے کو بنیاد بنانا چاہیے۔

سیاسی مجبوریوں اور کمزور ٹیم کی وجہ سے ہماری حکومتیں معیشت کو مضبوط بنانے کے ضروری فیصلوں سے پہلو تہی کرتی ہیں۔ پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے ممبران کے مفادات بھی حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ہماری حکومتی مشینری میں سے ڈیڈ ووڈ کو نکالا نہیں جاتا اور وہ Efficientاہلکاروں کو بھی نالائق اور نکما بنانے کا باعث بنتے ہیں۔

پاکستان میں ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے ٹیکس کلیکٹر کا ڈر ضروری ہے۔ایک اندازے کے مطابق جتنا ریونیو آنا چاہیے اس سے ساٹھ سے ستر فیصد ریونیو کم اکٹھا ہوتا ہے۔اس کی سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ادارے اور افسران کے اندر وہ ہمت،خواہش اور جذبہ ہی نہیں کہ وہ Holy Cowsکو ہاتھ لگا سکیں۔ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں بہت انڈر انوائیسنگ کی جاتی ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔

اس بارے میں ایف بی آر میں ایک ایکسرسائز ہو چکی ہے لیکن اس کی سفارشات پر بوجوہ عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔تعلیم، صحت کے نام پر بنائے گئے ٹرسٹ اور ان کے زیر کنٹرول اسکول ، کالجز، یونیورسٹیز، اسپتال اور لیبارٹریز کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے ، اس کے علاوہ دیگر ٹرسٹس کی فنانشنل لائف لائن کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ہم بہت بڑی اور بہت لگثری گاڑیاں امپورٹ کر رہے ہیں۔اسی طرح مہنگے موبائل فون کی دھڑا دھڑ درآمد ہو رہی ہے۔یہ دونوں آئیٹمز انتہائی غیر ضروری ہیں اور بیش بہا قیمتی زرِ مبادلہ خرچ ہو رہا ہے۔ہمیں چاہیے کہ جب تک معیشت مکمل طور پر سنبھل نہیں جاتی، قیمتی گاڑیوں اور مہنگے موبائلز کی درآمد روک کر زرِ مبادلہ ضایع ہونے سے بچایا جائے۔

ہم ایک زرعی ملک ہیں پھر بھی گندم اور کپاس اور دیگر اجناس باہر سے منگوا رہے ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ ہم فصلوں کو پانی دینے میں بہت غیر ذمے واری دکھاتے ہوئے ضرورت سے زیادہ پانی لگاتے ہیں۔1998سے لے کر2000تک تین سال پانی کے غیر ضروری استعمال کو روک کرمناسب پانی دیا گیا تو بمپر کراپ حاصل ہوئی۔اچھی فصلیں حاصل کرنے کے لیے مناسب مقدار میں پانی کے ساتھ اچھے بیج کا استعمال بھی بہت اہم ہے۔

ہم کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہیں لیکن فی ایکڑ کپاس کی پیداوار میں دنیا میں بہت پیچھے ہیں۔ ہمارے دیہات جو کبھی خوشحال اور صحت مندی کی علامت ہوا کرتے تھے ، اب غربت اور بیماریوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ چھوٹا کسان اور زرعی مزدور بدحال ہے ، ان کی فصل آڑھتیوں اور سرکاری عمال کی نذر ہوجاتی لیکن انھیں اپنی لاگت بھی واپس نہیں ملتی۔

کوروناوائرس کی وباء سے ہماری ہلاکتیں اس لیے بہت کم ہوئیں کیونکہ پاکستان نے N.CO.Cماڈل اپنا کر تمام متعلقہ اداروں کو اکٹھا بٹھا یا اور مشترکہ فیصلے کیے ۔زراعت،صحت اور باقی اہم شعبوں میں بھی اگر یہی ماڈل اپنایا جائے تو بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ہمیں فارن ایکس چینج دو ذرایع سے حاصل ہوتا ہے۔ ایک اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلاتِ زر اور دوسرا برآمدات۔اگر ہم اپنے ہیومن ریسورس کو باہر بھیجنے سے پہلے انھیں ٹیکنیکل تعلیمی اسناد،ایک بین الاقوامی زبان اور اچھے باوقار برتاؤ کے زیورسے آراستہ کر سکیں تو ترسیلاتِ زر کا حجم پچاس ارب سے تجاوز کر سکتا ہے۔

اس وقت امریکا میں نرسوں کی بہت ضرورت ہے۔ فلپائن کی Maidsساری دنیا میں موجود ہیں۔ پاکستان کے امیر گھرانوں میں ایسی فلپائنی میڈز بہت ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی نرسوں کو ضروری پروفیشنل تعلیم اور باوقار رویے سے کیوں آراستہ نہیں کر سکتے اور کیوں اچھی میڈز مہیا نہیں کر سکتے۔ٹورازم ابھی تک بہت neglectedسیکٹر ہے۔ہمارے ٹھیکیدار اور انجینیرز ڈویلپمنٹ پروجیکٹس کو بروقت مکمل نہیں ہونے دیتے جس سے پروجیکٹ کاسٹ بڑھ جاتی ہے اور معیشت پر بھاری بوجھ پڑتاہے۔پروجیکٹس کو وقت پر مکمل کر کے قیمتی زرِ مبادلہ بھی بچایا جا سکتا ہے اور معیشت پر بوجھ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

گورننس کو بہتر کرنا بھی اشد ضروری ہے۔نیب کی وجہ سے بھی کاروبار اور حکومتی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔اس کا حل بھی دھونڈنا ہو گا۔interest rate کم کرنے سے کاروبار پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔خام مال برآمد کرنے کے بجائے ویلیو ایڈڈ اشیاء باہر بھیجنے سے کثیر زرِ مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ڈالر ریٹ کم کرنا اور150روپے کے قریب رکھنا بہت ضروری ہے، کھانے پینے کی اشیاء اور فرٹیلائزر بڑے پیمانے پر باہر اسمگل ہو رہا ہے جسے روکنا ضروری ہے۔

بشکریہ ایکسپرس