1454

نرسوں کے عالمی دن کا اہم تقاضہ

بارہ مئی کو دن بھر میں نرسوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔رواں برس اس عالمی دن کی تھیم " اے وائس ٹو لیڈ ۔ نرسنگ میں سرمایہ کاری کریں اور عالمی صحت کو محفوظ بنانے کے حقوق کا احترام کریں"منفرد اور بہت حوصلہ افزاء ہے۔یہ تھیم زور دیتی ہے کہ دنیا بھر میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے نرسنگ کے پیشے کی حفاظت، حمایت اور سرمایہ کاری کی ضرورت پر توجہ مرکوز کریں۔اس دن کو منانے کا ایک بڑا مقصد دنیا بھر میں تمام نرسوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جو اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر انسانیت کی خدمت اور انسانی جانیں بچانے میں ہر وقت پیش پیش ہیں۔
دنیا نے دیکھا کہ  موجودہ کووڈ۔19 کی وبائی صورتحال  وبا کے دوران کیسے نرسوں نے ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کے ساتھ مل کر  مریضوں کی دیکھ بھال کی اور قیمتی انسانی جانیں بچائیں۔نرسوں کے کام کا احاطہ کیا جائے تو  پیدائش سے موت تک، غیر متعدی امراض سے سنگین متعدی امراض تک، دماغی صحت سے لے کر دائمی امراض تک، ہسپتالوں، کمیونٹیز اور گھروں میں نرسیں سب کے لیے قابل رسائی ہوتی ہیں اور مریضوں کو کلی دیکھ بھال فراہم کرتی ہیں۔ 
یہاں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ کووڈ۔19نے دنیا بھر میں صحت کے نظام میں محدود سرمایہ کاری کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نرسوں کے عالمی دن کی موجودہ تھیم  نرسنگ میں سرمایہ کاری کرنے، ایک لچکدار، اعلیٰ تعلیم یافتہ نرسنگ ورک فورس بنانے اور نرسوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے تاکہ افراد اور کمیونٹیز کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صحت کے نظام کو تبدیل کیا جا سکے۔
کووڈ۔19 کے دوران بے شمار نرسوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے ، انہیں ہر وقت وائرس کے سامنے کا چیلنج درپیش رہا، اضافی کام کے انتہائی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا ، اور محدود آمدن کے ساتھ دیگر معاشی مسائل الگ سے سہنے پڑے ۔انہی امور کو مد نظر رکھتے ہوئے  اس چیز کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی کہ  حکومتیں صحت عامہ سے متعلق  افرادی قوت میں سرمایہ کاری کریں کیونکہ ہیلتھ ورک فورس کے بغیر صحت نہیں ہے ،اس نظام میں خامیاں صحت کے پورے نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی ۔
اس تمام تر صورتحال کا بہتر ادراک کرتے ہوئے چین کے قومی صحت کمیشن نے ابھی حال ہی میں ایک زبردست  نیا منصوبہ جاری کیا ہے جس کے مطابق ، چین میں سال 2025 تک نرسوں کی مجموعی  تعداد   55 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔اس کا مطلب ہر 1,000 افراد کے لیے اوسطاً 3.8 رجسٹرڈ نرسیں موجود ہوں گی۔یہ اقدام حقیقتاً  نرسنگ پیشے کو ترقی دینے اور اسے آگے بڑھانے  کا بہترین مظہر ہے۔مزید اعدادو شمار پر نگاہ دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ چین نے نرسنگ کو کس قدر اہمیت دی ہے ،  2020  تک چین میں 4.7 ملین رجسٹرڈ نرسیں فعال ہیں،اس تعداد میں  2015 کے مقابلے میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ 70 فیصد سے زیادہ نرسوں کے پاس جونیئر کالج کی ڈگری یا اس سے زیادہ تعلیم ہے  ۔
چین کے اس نئے منصوبے کے اہم مقاصد میں ملک بھر میں نرسنگ کے وسائل کی تقسیم کو بہتر بنانا، نرسوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا، نرسنگ انڈسٹری کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینا اور بزرگوں کی دیکھ بھال کے نظام کو تیزی سے ترقی دینا شامل ہیں۔اس منصوبے کا مقصد کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بگ ڈیٹا، انٹرنیٹ آف تھنگس، بلاکچین اور موبائل انٹرنیٹ جیسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے دیکھ بھال کے ڈیٹا کی ڈیجیٹلائزیشن کو بڑھانا ہے تاکہ انٹرنیٹ کی مدد سے نگہداشت کے نظام کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ منصوبہ واضح کرتا ہے کہ نرسنگ میں بہتری لوگوں کی بہتر صحت کے لیے نمایاں اہمیت رکھتی ہے اور عمر رسیدہ آبادی کی بہتر نگہداشت کے لیے بھی نرسنگ ایک اہم ترین شعبہ ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ چین کی طرح دیگر حکومتیں اور صحت کے نظام نرسنگ کی تعلیم میں سرمایہ کاری کریں، نرسنگ کی بڑھتی ہوئی کمی کو دور کریں، پریکٹس کا مثبت ماحول اور مناسب معاوضہ فراہم کریں، صنفی مساوات کو یقینی بنائیں اور صحت کی دیکھ بھال کے تمام پہلوؤں میں ہر سطح پر فیصلہ سازی میں نرسوں کو شامل کریں۔بلاشبہ نرسنگ دنیا کی بڑھتی ہوئی صحت کی دیکھ بھال کی ضروریات کو پورا کرنے کا حل ہے۔ نرسنگ افرادی قوت میں سرمایہ کاری کا مطلب ہے کہ ہم مساوی صحت کو یقینی بنانے کے لیے صحت کے نظام کو بحال، تبدیل اور مضبوط کر سکتے ہیں۔ نرسنگ میں سرمایہ کاری اور نرسوں کے حقوق کے احترام سے ہم ایک مضبوط،  لچکدار، موئثر  اور مطمئن نرسنگ افرادی قوت بنا سکتے ہیں تاکہ کووڈ۔19 کی طرح  آنے والے دیگر چیلنجوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
 

بشکریہ اردو کالمز