47

سیاست کی خوفناک سمت۔۔کوئی نہیں بچے گا

پناہ گاہوں،لنگرخانوں،صحت سہولت کارڈ،احساس پروگرام اورشوکت خانم جیسے تاریخی ہسپتال کی تعمیرسابق وزیراعظم عمران خان کے بڑے یقینی طورپرایسے بڑے کارنامے ہونگے کہ جوکپتان کے ووٹروں اورسپورٹروں کے ساتھ عام لوگوں کوبھی یادکافی عرصے تک یادرہیں گے لیکن اس ملک میں بدتہذیبی،بداخلاقی اورگالم گلوچ کی سیاست کوپروان چڑھاکرکپتان نے اس ملک اورقوم پراپنی طرف سے جوعظیم احسان کیاہے یہی احسان ایک ایساکارنامہ ہے کہ جوکپتان کے ان تمام چھوٹے بڑے کارناموں پربھاری بہت بھاری ہے۔لنگرخانوں وپناہ گاہوں سے شوکت خاتم ہسپتال تک کے کارنامے شائدکہ کبھی نہ کبھی لوگ بھول جائیں لیکن آپ یقین کریں۔ بیگانے کیا۔؟کپتان کے اپنے بھی اس عظیم احسان وکارنامے کواب کبھی بھول نہیں پائیں گے۔اس ملک کی سیاست میں بداخلاقی اوربدتہذیبی کے اکادکا جراثیم پہلے بھی تھے۔ہم ہرگزیہ نہیں کہتے کہ ہماری سیاست پہلے کہیں بدتہذیبی،بداخلاقی اورگالم گلوچ سے باالکل پاک تھی پہلے بھی اس طرح کے مسخرے کچھ کم نہ تھے لیکن کپتان نے ان مسخروں کوبھی مات دے کر  بدتہذیبی،بداخلاقی اورگالم گلوچ کے وائرس کوجس طرح پورے ملک میں پھیلادیاہے وہ خطرناک بہت ہی خطرناک ہے۔آج اس ملک میں وہ کونساگھریادرہے جواس وائرس سے متاثرنہیں۔آپ کراچی سے گلگت اورکشمیرسے چترال تک دیکھیں آپ کوسیاست کے میدان میں بداخلاقی اورگالم گلوچ کایہ  وائرس گھرگھرتک پھیلاہوانظرآئے گا۔پہلے اس وائرس کے صرف سیاسی مخالفین نشانہ تھے لیکن آج اس عمرانی وائرس سے ملک کاکوئی بھی باعزت اورشریف شہری محفوظ نہیں۔اس ملک میں پہلے بھی لوگ سیاست سیاست کھیلتے تھے۔شہرکیا۔؟گاؤں اوردیہات میں بھی گھروں اورحجروں کے اندرسیاسی باتیں،بحث اورمباحثے ہوتے تھے لیکن اب شہروں کے ساتھ گاؤں اوردیہات بھی اس عمرانی وائرس سے محفوظ نہیں۔ہماری طرح اب دوردرازکے دیہات اورگاؤں میں بھی لوگ غلطی سے سیاست کانام نہیں لیتے کیونکہ ان کوبھی پتہ چلاہے کہ سیاست کانام سنتے یاذکرکے چھیڑتے ہی کپتان کے تربیت یافتہ کھلاڑی شہدکی مکھیوں کی طرح بھن بھن شروع کرکے اس طرح لوگوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں کہ ایک شریف اورباعزت شخص کے لئے پھران سے جان چھڑاناآسان نہیں ہوتا۔سیاست کے نام پرشرفاء کی پگڑیاں اچھالنااورکپتان وپی ٹی آئی کی مخالفت کرنے والوں کوماں بہن کی گالیوں سے نوازنایہ جیسے کپتان کے ان کھلاڑیوں کے ہاں کوئی بہت بڑے ثواب کے کام ہوں۔وقت کے وزیراعظم ہونے کے باوجودجس طرح کپتان کے پاس سیاسی مخالفین کے لئے چور،ڈاکو،مافیا،ڈیزل،شوبازاورچوہوں کے علاوہ کوئی اور الفاظ نہیں تھے اسی طرح اب کپتان کے ان کھلاڑیوں کے پاس بھی مخالفین کے لئے بے ایمان،چور،ڈاکواورغدارکے سوااورکوئی الفاظ نہیں۔اگردیکھاجائے توایسالگ رہاہے کہ اس وقت ملک میں کپتان کے کھلاڑیوں اورتحریک انصاف کے کارکنوں سے زیادہ ایمان دار،بہادر،شریف،تعلیم یافتہ،خوش اخلاق اورنظریے پرجان دینے وقربان کرنے والے اورکوئی نہ ہوں۔یعنی اس ملک میں فقط یہی کھلاڑی ایماندارہوں باقی سب کے سب چور،ڈاکواوربے ایمان۔اگریہ کہاجائے توبے جانہ ہوگاکہ سابق وزیراعظم عمران خان نے اس ملک میں گالم گلوچ،بداخلاقی اوربدتہذیبی کاجوکلچرمتعارف کروایاہے وہ کلچراب گھرگھرتک پہنچ چکاہے۔اپناہے یاکوئی بیگانہ۔کوئی بھی شخص اب اس کلچریاکنجرتال سے محفوظ نہیں۔پریشان کن بات یہ ہے کہ ہماری دوسری پارٹیوں اورجماعتوں کے کارکن بھی اب اس کلچرسے متاثردکھائی دے رہے ہیں۔سیاست کے میدان میں ہمیشہ صابرین وشاکرین میں نام پانے والے مولانافضل الرحمن کے وہ کارکن جن میں کبھی اپنے قائدکی صابرین والی جھلک دکھایاکرتی تھی۔جوکسی بڑے سیاسی مخالف کی مخالفت پربھی اپنے قائدکی طرح کبھی اف تک نہیں کہتے تھے پی ٹی آئی کارکنوں کی دیکھادیکھی اب انہوں نے بھی زبان چلانے کے ساتھ سیاسی مخالفین پرجملے کسنے،تیربرسانے اورگالم گلوچ کے نشترچلانے شروع کردیئے ہیں۔سیاسی کارکنوں کایہ رویہ اوریہ حالت دیکھ کرسمجھ نہیں آرہاکہ ہم آخرکس طرف جارہے ہیں۔ڈی چوک،سوشل میڈیا،انٹرنیٹ اورٹچ موبائل کے ذریعے کپتان سے سیاسی تربیت حاصل کرنے والے کھلاڑیوں نے جوروٹ اورسیاسی ٹرین پکڑی ہے واللہ یہ ٹرین منزل کی طرف نہیں جارہی۔ہماری منزل شرافت ہے خباثت،غنڈہ گردی،بے حیائی،فحاشی اوربے غیرتی نہیں۔ہمارے پیارے حبیب حضرت محمدﷺنے سب سے زیادہ زوراعلیٰ اخلاق پردیا۔بداخلاقی،بدتہذیبی،گالم گلوچ اوربدتمیزی کی آگ یہ دنیامیں بھی خطرناک ہے اورآخرت میں بھی۔بظاہرچھوٹی اورمعمولی نظرآنے والی یہ ہلکی سی زبان جب روٹ اورپٹری سے اترجائے توپھراس کاکیاانجام ہوتاہے۔؟یہ آج بھی ایک چیخنے،چلانے،رونے اوردھونے والے عمران خان کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔کپتان اپنی ایک گز کی زبان سنبھال کے بات کرتے توآج اس کایہ انجام ہوتا۔؟ پی ڈی ایم،متحدہ اپوزیشن اورامریکی سازش یہ تومحض باتیں ہیں،کپتان کے خلاف اصل سازش تواس کی اپنی اوران کے کھلاڑیوں کی اس ایک ایک گزلمبی زبان نے کی۔ڈاکو،گنجا،شوباز،ڈیزل،مداری اورتین چوہے یہ والی زبان اوریہ والے الفاظ ہی توکپتان کولے ڈوبے۔کپتان اورکھلاڑی شہباز،زرداری اورمولاناجیسے اچھے بھلے انسانوں کوچوہے اورانہیں برے ناموں والقابات سے نہ پکارتے توشائدکہ وہ انہیں بھی اس طرح کے شطرمرغ بننے پر مجبور نہ کرتے۔ کچھ شہرکے لوگ بھی ظالم تھے۔۔کچھ ہمیں مرنے کابھی شوق تھا۔شہرسیاست کے لوگ ظالم تھے یانہیں لیکن کپتان اورکپتان کے کھلاڑیوں کوسیاسی طورپرمرنے کاشوق بہت شوق تھا۔کپتان اور کھلاڑی اسی رویے اوراسی لب ولہجے پرآسمان سے زمین پرگرے جورویہ اورجولب ولہجہ آج کل مولانا،ان سیاسی مفتیوں اور کارکنوں نے اپنایاہواہے۔سیاست پھٹے دلوں کوجوڑنے کے ساتھ صبر،برداشت،مفاہمت،اعلیٰ اخلاق،امن اوربھائی چارے کانام ہے۔یہ کوئی سیاست اورکوئی جمہوریت نہیں کہ کوئی آپ یاآپ کے قائد،لیڈریاامام کی مخالفت کریں توآپ بداخلاقی،بدتہذیبی،گالم گلوچ،بدتمیزی یااس کومارنے پراترآئیں۔اس آمرانہ اورجاہلانہ سوچ کی اس ملک اورہماری سیاست میں کوئی جگہ نہیں۔کپتان کے کھلاڑیوں اورمولاناکے مریدوں سمیت کچھ دیگرسیاسی پارٹیوں کے کارکنوں نے اس وقت ملک میں گالم گلوچ وبداخلاقی والی جوٹرین پکڑی ہوئی ہے وہ نہ صر ف ہماری سیاست اورجمہوریت بلکہ اس ملک کی بقاء وسلامتی کے لئے بھی خطرناک ہے۔سیاسی دلوں میں گالم گلوچ،عداوت،عدم برداشت،انتقام اوررنجشوں کی یہ آگ اگراسی طرح بھڑکتی رہی توپھرمولاناسے کپتان اورمیاں سے زرداری تک اس کے شعلوں سے کوئی بھی نہیں بچے گا۔اس لئے سیاسی پیراورمریددوسروں کوبرابھلاکہنے اورگالیاں دینے کی بجائے اپنے اپنے آستانوں کی فکر شروع کردیں کیونکہ عدم برداشت،بداخلاقی،گالم گلوچ اوربدتمیزی کی کوکھ سے جنم لینے والی آگ کپتان کے بعداب ان تک بھی پہنچنے سکتی ہے

بشکریہ اردو کالمز