4251

ایک ہینڈسم کی کہانی جو خود اپنے عشق میں گرفتار ہوا

پیارے بچو۔ یہ مضمون آپ مت پڑھیں یا کم از کم کسی بڑے پر یہ ہرگز ظاہر نہ ہونے دیں کہ یہ آپ پڑھ رہے ہیں کیونکہ اس میں بہت عشق معشوقی والی تاریخ برائے بالغاں بیان کی گئی ہے۔

تو صاحبو، یونانی تہذیب کا منبع موجودہ ترکی ہے۔ اس کے مغربی ساحلی علاقے کو آئیونیا کہا جاتا ہے۔ ارسطو کے مطابق یونان کا پہلا فلسفی اور عمومی طور پر بابائے سائنس کہا جانے والا تھالیس آئیونیا کا ہی رہنے والا تھا۔ اناکسیمیندر نامی مشہور دادا فلسفی بھی وہی پیدا ہوا۔ فیثا غورث، ہیراقلیطس، اور پارمینیدس وغیرہ کا آبائی تعلق بھی آئیونیا سے تھا۔ ان فلسفیوں کے علاوہ بے شمار یونانی مشاہیر کا تعلق آئیونیا سے تھا۔ آئیونیا کی بولی یونانی ادب اور علم کی زبان تھی۔ کئی مشہور یونانی ہیرو اور دیوی دیوتا اسی وجہ سے آئیونیا سے تعلق رکھنے پر مجبور کر دیے گئے۔

ان ہی میں سے ایک نوجوان کا نام نارسیس تھا۔ اردو میں اسے نرگس کہا جاتا ہے۔ نارسیس کا باپ دریائی دیوتا کیفیسوس تھا اور ماں ایک نمف (پری) لیرائپی۔ لیرائپی کو ایک جوتشی نے بتایا تھا کہ نارسیس ایک طویل عمر پائے گا بشرطیکہ وہ خود کو نہ پہچانے یعنی اپنی شکل نہ دیکھے۔ نارسیس بڑا ہوا تو وہ بے انتہا حسین و جمیل نکلا اور انت کا ہینڈسم۔

ایک دن ہینڈسم نارسیس جنگلوں میں شکار کھیل رہا تھا کہ ایکو (بازگشت) نامی پہاڑی پری کی اس پر نظر پڑی۔ اس کے حسن و جمال سے وہ وہیں ڈھیر ہو گئی۔ پہلی ہی نظر میں وہ اپنا دل، جگر اور دیگر اعضائے رئیسہ نارسیس کی نذر کرنے پر اتاؤلی ہو گئی۔ وہ خاموشی سے نارسیس کا پیچھا کرنے لگی۔ نارسیس نے چاپ سن کر جان لیا کہ کوئی اس کے آس پاس ہے۔ اس نے پوچھا ”کون ہے؟“ ایکو نے اس کے الفاظ کو دہرایا ”کون ہے؟“ کچھ دیر یہی کھیل چلتا رہا پھر بے چین ہو کر اس نے خود کو ظاہر کیا اور نارسیس کو اپنی آغوش میں سمونے کی کوشش کی۔

اب ہینڈسم نارسیس ایک نہایت شرمیلا نوجوان تھا۔ اسے کسی وجہ سے پریوں میں قطعاً کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ پیچھے ہٹا اور ایکو سے بولا ”بی بی جا کر اپنا کام کر، میرا پیچھا چھوڑ“ ۔ یہ سن کر حسین و جمیل ایکو کا دل ایسا ٹوٹا کہ آج تک وہ ویران پہاڑوں میں گھومتی پھرتی ہے۔ کوئی آواز دے تو اس کے الفاظ دہرا دیتی ہے لیکن اسے آج تک کوئی نارسیس جیسا ہینڈسم نہیں ملا تو آواز دینے والے کو وہ اب جپھی نہیں ڈالتی۔

نیمیسس، جو حسن و عشق کی دیوی افرودیتی کا ایک روپ تھی اور دیوتاؤں کے آگے اکڑ دکھانے والوں کو سزا بھی دیا کرتی تھی، یہ دیکھ کر رنجیدہ ہوئی کہ کیسی سوہنی پری کا دل نارسیس نے یوں توڑا ہے۔ اس نے کہا کہ ہینڈسم ہو گا تو اپنے گھر میں ہو گا، میں اسے سبق سکھاتی ہوں۔

ایک دن ہینڈسم نارسیس جنگل میں شکار کھیل رہا تھا کہ اسے بہت پیاس لگی۔ اس کی چھاگل خالی تھی۔ وہ پانی کی تلاش میں ایک نہایت خوبصورت جھیل تک پہنچا جو آئینے جیسی تھی۔ اس نے جھک کر پانی پینا چاہا تو اس نے جھیل میں ایک نہایت ہینڈسم اور خوبصورت جوان کو دیکھا۔ وہ وہیں اپنا دل ہار گیا۔ اس نے سوچا کہ پری کو چھوڑو یہ بندہ ٹھیک ہے عشق کے لیے۔ بیٹھ کر انتظار کرنے لگا کہ کب وہ جوان جھیل سے نکلے تو عشق کی بات کی جائے۔ وہ ایسا سحر زدہ ہوا کہ اسے یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ جوان تو خود اس کا اپنا عکس ہے۔

آخر ایک طویل مدت تک انتظار کرنے کے بعد اسے یہ احساس ہوا کہ جھیل والا ہینڈسم نوجوان ہزار منت خوشامد کرنے کے باوجود باہر نکلے گا ہی نہیں۔ وہ وہیں اپنے عشق کی آگ میں جل کر خاک ہو گیا اور اس خاک میں وہ پھول اگا جسے نرگس کہتے ہیں اور جو نرگسیت زدہ لوگوں کی آفاقی پہچان ہے۔

ایک دوسری روایت کے مطابق اس زمانے میں یونان میں بھی ویسے ہی لونڈوں سے دوا لینے کا رواج تھا جیسے میر اور دیگر اساتذہ عطار کے لڑکے سے لیا کرتے تھے۔ اس روایت کے مطابق ہینڈسم نارسیس پر اس زمانے کے بے شمار نوجوان عاشق تھے۔ لیکن اس نے کسی کی بات نہیں مانی اور ان تمام نوجوانوں کا دل توڑ دیا۔

امائنیاس نامی ایک نوجوان تو ہینڈسم نارسیس کے عشق میں دیوانہ ہی ہو گیا۔ ہینڈسم نارسیس نے اسے مطلوبہ سہولت فراہم کرنے کی بجائے ایک تلوار دے کر جان چھڑانے کی کوشش کی مگر ناکام عاشق امائنیاس نے ہینڈسم نارسیس کی دہلیز پر خودکشی کر لی۔ اس سے پہلے اس نے دیوتاؤں سے بہت سچے دل سے دعا مانگ لی کہ وہ ہینڈسم نارسیس کو اس دکھ کے بدلے جو اس نے امائنیاس کو دیا ہے، سبق سکھا کر چھوڑیں۔ دیوتاؤں نے اس دکھی آتما کی دعا قبول کر لی۔

ایک دن ہینڈسم نارسیس ایک شفاف جھیل کے پاس سے گزرا تو ایسا دلکش پانی دیکھ کر اس کا دل للچایا۔ وہ پانی پینے کے لیے جھکا۔ وہ ہینڈسم نارسیس جس نے شہر بھر کے تمام نوجوانوں کو ٹھکرایا تھا، جھیل کے پانی میں موجود نوجوان کے آگے دل ہار بیٹھا اور جھکا ہی رہ گیا۔ اس نے جھیل والے نوجوان کو پانے کی بہت کوشش کی مگر جب وہ بھی امائنیاس ہی کی طرح عشق میں ناکامی سے تھک گیا تو اس نے وہیں خودکشی کر لی۔

قدیم یونان میں اپنا عکس دیکھنا اس وہم کی بنیاد بنا کہ کوئی ہینڈسم بندہ اپنا عکس دیکھ لے تو اپنے ہی عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے، کوئی دوسرا اس کی نگاہوں میں جچتا ہی نہیں، اپنے سوا کسی دوسرے کو اہمیت ہی نہیں دیتا، اور یوں وہ گویا ایک طرح سے خودکشی کر لیتا ہے۔

بشکریہ ہم سب

 

بشکریہ ہم سب