179

سیاست میں شائستگی کا دامن نہ چھوڑا جائے!

ابراہم لنکن کے بارے میں کون نہیں جانتا ؟ وہ امریکا کے سولہویں صدر، عظیم سیاستدان اور جدید امریکا کے بانی تھے، اگر وہ اقتدار میں نہ آتے تو امریکا کا حال بھی براعظم افریقہ جیسا ہوتا ، کیوں کہ انھوں نے ڈیڑھ سوسال قبل ملک بھر سے خانہ جنگی ختم کرکے ترقی کی راہ پر ڈالا۔ وہ ایک موچی کے گھر پیدا ہوئے تھے، وہ خود بھی جوتے بناتے رہے، انھوں نے بطور ڈاکیا، بطور کلرک اور بطور مزدور بھی کام کیا۔ اور آہستہ آہستہ اپنی منزل کی جانب قدم بڑھاتے ایک دن امریکی کانگریس کے رکن بھی منتخب ہوگئے۔

1856میں وہ امریکا کی ڈیموکریٹس پارٹی میں شامل ہو ئے اور 1860میں امریکا کے سولہویں صدر منتخب ہوئے۔ اور 15 اپریل 1865 کو انھیں قتل کردیا گیا۔اس وقت امریکی سینیٹ میں ہو بہو پاکستان کی طرح جاگیرداروں، تاجروں، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کا قبضہ تھا، یہ لوگ سینیٹ میں اپنی کمیونٹی کے مفادات کی حفاظت کرتے تھے۔

ابراہم لنکن صدر بنے تو انھوں نے امریکا میں غلامی کا خاتمہ کر دیا، اس کے لیے انھوں نے ایک صدارتی ایک فرمان کے ذریعے باغی ریاستوں کے غلاموں کو آزادکر کے فوج میں شامل کیا جس کے دو ررس اثرات مرتب ہوئے۔

امریکی اشرافیہ لنکن کی اصلاحات سے براہ راست متاثر ہو رہی تھیں چنانچہ یہ لوگ ابراہم لنکن کے خلاف ہو گئے تھے اور مضحکہ اڑانے سے بالکل نہیں چوکتے تھے،  آج پاکستانی سیاست میں بھی نہ تو وہ شائستگی رہی ہے نہ دلیلیں ساتھ دیتی ہیں اور نہ ہی کسی میں برداشت کا مادہ ہے…ابراہم لنکن آج مجھے اُس وقت یاد آئے جب قوم نے وزیر اعظم عمران خان کو کراچی میں اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے سنا۔ وہ خاصے دباؤ کا شکار نظر آئے۔ اسی دباؤ کی وجہ سے حسب روایت انھوں نے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا ۔کسی کو بوٹ پالشیاکہا تو کسی کو ڈیزل، کسی کو اردو سیکھنے کا طعنہ دیا تو کسی کو چور ڈاکو کے القابات سے نوازا۔ حد تو یہ تھی کہ یہ بات انھوں نے ایک بار نہیں بار بار دہرائی اور پھر وہ یہ باتیں کسی ایک جلسے میں نہیں کر رہے، ہر ہر کارنر میٹنگ یا جلسے میں اُن کی تقاریر ایسی ہی ہوتی ہیں۔

حالانکہ حالیہ لڑائی ’’تحریک عدم اعتماد پرہے، جس پر اپوزیشن کا پورا آئینی اور جمہوری حق ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد پیش کرے، جب کہ حکومت کو آئینی اور جمہوری حق ہے کہ وہ اس کا دفاع کرے۔ اور اس میں مسئلہ ہی کیا ہے؟ یہ تو ایک سیاسی عمل ہے، اس پر لڑنے یا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ اس پر تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ یہ سیٹیں آنی جانی چیزیں ہیں، کیا فرق پڑتا ہے؟ سیاستدانوں کا نہ جانے شائستگی، تحمل اور برداشت کہاں چلا گیا ہے؟ حالانکہ جس طرح سیاست ایک عبادت ہے اسی طرح سیاستدان بھی آئیڈیل شخصیت ہوا کرتے ہیں، اُن میں شائستگی کا عنصر کبھی ختم نہیں ہوتاہے۔

آپ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں ، قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر مسلم لیگ کے پہلے دور حکومت تک سیاست میں بڑی وضع داری تھی،شائستگی تھی۔سیاسی رہنما یہاں کی روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے تقاریرکرتے تھے۔نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا شاہ احمد نورانی ،مولانا مفتی محمود،خان عبدالولی خان،عطاء اللہ مینگل، عبدالصمد خان اچکزئی،نواب اکبر بگٹی اور اس وقت کے دیگر کئی رہنما تھے۔

وہ سیاست کرتے تھے، جلسے جلوسوںمیں تقاریر کیا کرتے تھے لیکن سخت ترین سیاسی مخالفین کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے شائستگی اور وضع داری کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھتے تھے۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے شعلہ بیان رہنما نے کبھی بھی کوئی ایک نازیبا لفظ استعمال نہیں کیا۔ان سیاسی رہنماؤں کے بعد اس وقت سیاست سے شائستگی رخصت ہونے لگی جب سیاست میں غیر سیاسی،نا تجربہ کار اور نو آموز افراد داخل ہونا شروع ہوئے۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ہمارے ہاں سیاست میں معاشرتی روایات اور شائستگی کاخاتمہ ہوتا گیا۔

بہرکیف دنیا میں بے شمار تحریکیں چلی ہیں، بے شمار تحریک عدم اعتماد ہوئی ہیں، ایک ایک ووٹ سے کامیابیاں لی ہیں، ایک ایک ووٹ پر پانچ پانچ سال تک حکومتیں قائم رہی ہیں، لیکن بہترین سیاستدان اور لیڈر وہی ہوتا ہے جس میں قوت برداشت زیادہ ہوتی ہے، جو لوگوں کا آئیڈیل ہو ، اُس کی سخت سے سخت حالات میں بھی زبان شیریں ہوتی ہے، آپ ملک بھر کے تمام ایوانوں میں دیکھ لیں، حقیقی سیاستدان کم نظر آئیں گے، اورپھراس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے کچھ پارلیمنٹیرینز کو ہر دور میں بکنے کا یا اپنا ریٹ لگوانے کا بھی شوق ہے رہا، کیوں کہ وہ اتنا مہنگا الیکشن لڑکر آتے ہیں اس لیے اُن کا بک جانا تو بنتا ہے۔ وہ سب سے پہلے اپنے پیسے پورے کرتے ہیں، پھر ’’منافع‘‘ وصول کرتے ہیں۔

لہٰذاقوم کی تربیت کرنے والے پارلیمنٹرین نہیں بلکہ ایک ہجوم ہیں جو 1985 کے غیرجماعتی الیکشن کے بعد وجود میں آئے، یہ لوگ تو وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں، ان میں سیاست، خدمت اور انسانیت کا جذبہ تو دور تک نظر نہیں آتا اور نہ ہی یہ نظر آتا ہے کہ یہ کسی فلاحی مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں، یہی حال نیچے ہوگیا ہے، بلدیاتی انتخابات ہوں، ضمنی انتخابات ہوں یا کسی بار وغیرہ یا کسی پریس کلب کے ہی الیکشن کیوں نہ ہوں۔

راتوں رات وفاداریاں تبدیل ہوجاتی ہیں، ایسا کیوں ہوتا ہے، سب کو پتہ ہے۔ یعنی اوپر سے نیچے تک سسٹم ہی موقع پرستوں ، خوشامدیوں اوربدعنوان کا سہولت کار بنا ہوا ہے جس میں ذہین اور قابل سیاستدان اور سرکاری افسر کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ لہٰذاایک خان صاحب سے اُمید تھی، لیکن اب وہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے کیوں کہ وہ بھی ابراہم لنکن بننے کے بجائے روایتی سیاستدان بن رہے ہیں اور یہ ملک و قوم کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔

بشکریہ ایکسپریس

بشکریہ ایکسپرس