129

نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ پاکستانی خواتین کے لیے اہم کیوں

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے تو اب جا کر اپنے تفصیلی فیصلے میں ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی ہے لیکن اس فیصلے سے بہت پہلے سوشل میڈیا پہ متحرک پاکستانی خواتین کی اکثریت نے کُھل کر نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا تھا۔

22 ستمبر 2021  کی اس تصویر میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم  کارکنوں نے  سابق پاکستانی سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کے  قتل کے خلاف اسلام آباد  میں  ایک احتجاجی ریلی کے دوران پلے کارڈز اور موم بتیاں اٹھا رکھی ہیں   (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون فور میں فرانس کالونی نام کی کچی بستی ہے، بہت معیوب سی بات ہے مگر فرض کریں کہ گذشتہ برس کسی لڑکی کو اس کا دوست بیدردی سے اسی کالونی کے کسی کچے پکے کوارٹر میں ذبح کردیتا تو شاید آج اسلام ٓاباد کچہری میں اس کا مقدمہ تو آہستہ آہستہ گھسٹ رہا ہوتا۔

اس واقعے کے بعد کوئی بڑی خبر، کوئی سوشل میڈیا ٹرینڈ نہ بن پاتا، تاریخ پہ تاریخ دی جا رہی ہوتی، مارے باندھے سے اگر ’جسٹس فار فلاں فلاں‘ اگر ایک آدھ دن چل بھی جاتا تو اس سے آگے عوامی دباؤ نہ بڑھ پاتا۔

نور مقدم کا مقدمہ پاکستانی معاشرے کے لیے عموماً اور پاکستانی خواتین کے لیے خصوصاً اتنی اہمیت کیوں رکھتا ہے، کچھ مشاہدات حاضر ہیں۔

نور مقدم قتل کی جائے واردات اسلام آباد کا مہنگا ترین علاقہ ہونا، نور کے والد کا سابق سفیر پاکستان ہونا، قاتل ظاہر جعفر کا ملک کے معروف صعنت کار کا بیٹا ہونا اور پھر قتل کی اس واردات کی وحشت ناک نوعیت نے اس مقدمے کو مقبول بنانے میں اپنا قدرتی کردار ادا کیا، جس کے پیچھے کسی ارادی مہم کا کوئی ہاتھ نہیں۔

اس بحث میں جائے بغیر کے نور مقدم کے ساتھ ایسا کیوں ہوا، نور مقدم کے دوستوں، گھر والوں اور سماجی کارکنوں نے محسوس کیا کہ اس لڑکی کے ساتھ ظلم ہوا، جس کی بنیاد پر نور کو انصاف دلانے کے لیے باقاعدہ مہم چلائی گئی۔

وہ مقدمہ جسے وقت، حالات، واقعات اور اس سے نتھی شخصیات مقبول بنا چکے ہوں اسے نظر انداز کرنا میڈیا کے بس میں نہیں۔ یوں پاکستان کے سوشل اور مین سٹریم میڈیا اور ساتھ ہی عالمی میڈیا نے اس مقدمے کی لمحہ بہ لمحہ کوریج سے عوامی دلچسپی بنائے رکھی، نتیجہ یہ کہ اس مقدمے کے فیصلے تک پولیس، عدالت اور وکلا پر عوامی دباؤ قائم رہا۔

نور مقدم مشہور تھی نہ ہی کوئی سماجی شخصیت۔ نور مقدم کا سوشل میڈیا استعمال پرائیوٹ تھا، بلکہ یوں کہیے کہ اس کی پوری زندگی پرائیوٹ تھی۔ ہم نے نور مقدم کو اس کے دوستوں کی ٹوئٹس، میڈیا پہ دیے گئے بیانات، گھر والوں کی آہوں سسکیوں کے ساتھ یادداشتوں اور نور کی اپنی سوشل میڈیا پرسنالٹی سے جانا پہچانا ہے۔

نور مقدم سے ہمدردی رکھنے والی سائیڈ نے ہمیں نور مقدم کی شخصیت کے مثبت پہلو سے روشناس کرایا جیسے کہ ’وہ جانوروں سے پیار کرتی تھی، وہ مصوری کرتی تھی، وہ عورت مارچ میں بے زبان عورتوں کے حقوق کے لیے پلے کارڈ اٹھاتی تھی۔‘

وہیں اس کیس کو روایتی ڈھنگ سے دیکھنے والوں نے کہا کہ ’نور مقدم ہائی سوسائٹی، ایلیٹ کلاس کی ان اکثریتی لڑکیوں میں سے ایک تھی، جو نشہ کرتی ہیں، پارٹی گرل ہیں، مذہب سے دور ہیں، شادی کے بجائے اوپن ریلیشن پر یقین رکھتی ہیں۔‘

کہہ سکتے ہیں کہ یہ نور مقدم کی شخصیت کا سحر نہیں تھا جو خواتین نے اسے انصاف دلانے کے لیے اپنی آواز بلند کی بلکہ یہ کیس خواتین پہ کیےجانے والے مظالم کو نارملائز کرنے کے خلاف عورتوں کا ردعمل تھا۔

نور مقدم قتل کیس کے لیے آواز بلند کرنے والی خواتین نے پاکستانی نظام انصاف، ہمارے سماج، ہمارے فیصلہ سازوں اور عام لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ لڑکیاں اپنے زندگی کے فیصلے خود کرنے کی اہلیت اور حق رکھتی ہیں لیکن اس کی سزا وحشیانہ قتل نہیں۔

خواتین پہ تشدد کے مقدمات کی صرف ایک سمت ہونی چاہیے کہ ظلم ثابت ہو اور ظالم کو سزا ملے۔ وکٹم بلیمنگ یعنی متاثرہ عورت وہاں کیا کررہی تھی، اس نے کیا پہن رکھا تھا، وہ کتنی آزاد خیال تھی، وہ تو اپنی مرضی سے وہاں موجود تھی جیسے سوالات قانون اور سماج سے ختم ہونے چاہییں۔

ملزم چاہے کتنا ہی پڑھا لکھا ہو، کتنے ہی اثر و روسوخ والا ہو، اسے سزا قانون کے مطابق ملنا چاہیے۔ خواتین پہ تشدد صرف غیر تعلیم یافتہ طبقے کا طرہ امتیاز نہیں، عورتوں کو ان کی جائیداد کے حق سے، ان کی شخصی آزادی کے حق سے اور زندہ رہنے کے حق سے محروم کرنے کا جرم ہر طبقے میں ہو رہا ہے، اس لیے آواز بھی ہر طبقے کی عورت کو اٹھانا چاہیے۔

یہ کہہ کر جرم کی شدت کم نہیں کی جا سکتی کہ قاتل اور مقتول پہلے سے ایک تعلق میں بندھے ہوئے تھے، مقتولہ نے کیوں کر ایک درندے کو نہ پہچانا، وہ خود بھی ملوث تھی، وہ تو خود چل کر وہاں گئی، وہ کیوں ایسے نشئی سے شادی کرنا چاہتی تھی وغیرہ وغیرہ۔ خواتین نے اس مقدمے کے دوران کئی بار یہ مدعا اٹھایا کہ ایک جائز قانونی اور شرعی رشتے کے باوجود بھی روزانہ درجنوں خواتین اپنے شوہر کے ہاتھوں بدترین تشدد اور قتل کا نشانہ بنتی ہیں اس لیے عورتوں پہ تشدد کو ایک سنگین سماجی مسئلہ سمجھنا ہوگا، اسے خواتین کی ذاتی پسند، لائف سٹائل یا ماڈرن نظریات سے جوڑنا درست نہیں۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے تو اب جا کر اپنے تفصیلی فیصلے میں ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی ہے، لیکن اس فیصلے سے بہت پہلے سوشل میڈیا پہ متحرک پاکستانی خواتین کی اکثریت نے کُھل کر نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا تھا۔

وہ ظلم کو ظلم منوانا چاہتی تھیں، وہ مقدمے کے پس منظر، لڑکی کا قصور، پڑھا لکھا ملزم، بااثر خاندان، اوپن ریلیشن جیسے دلائل کو ایک طرف رکھ کر ظالم کا منطقی انجام دیکھنا چاہتی تھیں۔

کیونکہ وہ نور مقدم میں اپنا آپ دیکھتی ہیں جو جدت، شخصی آزادی، اپنے لیے ازدواجی ساتھی کا آزادانہ فیصلہ، حقوق نسواں وغیرہ جیسے معاملات پر اپنا بھرپور نظریہ رکھتی ہے۔

بشکریہ اینڈیپینڈنٹ نیوز

 

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز