320

عمران خان نوشتۂ دیوار پڑھنے میں دیر کر چکے؟

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے عدم اعتماد کے بعد وزارت عظمیٰ پر اتنے اہم اختلاف پر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مشترکہ اپوزیشن عمران خان کی بجائے پہلا وار سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف کر سکتی ہے۔

‎اگلے چار سے چھ ماہ میں کچھ اہم فیصلوں کی شنید ہے اور دباؤ میں رہ کر کوئی بھی وزیراعظم پراعتماد ہو  کراپنی مرضی کے فیصلے کب کر سکتا ہے؟ (عمران خان فیس بک پیج)

مارچ کے مہینے کو ‎حکومت اور اپوزیشن دونوں انتہائی اہم قرار دے چکے تھے۔ ‎اسی ’اہمیت‘ کے پیش نظر پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اپنے اپنے لانگ مارچ کا اعلان کیا اور اور اب یہی ’اہمیت‘ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کی لاہور میں ’غیرمتوقع‘ بیٹھک پر بھی مجبور کر چکی ہے۔

‎پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حالیہ بیٹھک نے سیاسی درجہ حرارت اچانک اتنا بڑھا دیا ہے کہ عمران خان کو دورۂ چین میں سر جوڑ کر بیٹھنا پڑا اور وطن واپسی پر ہی انہوں نے خود نہ صرف عوامی رابطے شروع کرنے کا فیصلہ کیا بلکہ خسرو بختیار کو پرویز الہٰی کے پاس بھیج کر بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی اصل تپش کا اندازہ لگانے کی بھی کوشش کی۔

اب آگے کیا ہو گا؟ کیا اس ‎بار اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کو سنجیدہ لینا چاہیے؟ اس کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کیا چاہتی ہیں۔

‎ن لیگ عمران خان کو رخصت کروا کر (عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں) تین ماہ کے اندر انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے۔ اور انہیں اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ عمران خان کو پیپلز پارٹی کی مدد کے بغیر گھر بھجوانا ناممکن ہے۔

‎لیکن پیپلز پارٹی اپنے پتے کمال ہوشیاری اور حقیقت پسندانہ سیاست کے دائرے میں رہ کر کھیل رہی ہے۔ انہیں اندازہ ہے کہ عمران خان کی رخصتی کے بعد سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھے گا، ملکی معیشت اور بگڑے گی اور اگلا بجٹ پیش کرنا پیپلز پارٹی کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہو گا۔  باالفاظ دیگر اگر پیپلز پارٹی ن لیگ کی خواہش کے مطابق وزارت عظمی محض چند ماہ کے لیے قبول کرتی ہے تو یہ انتخابات سے پہلے انتہائی گھاٹے کا سودا ہوگا۔

‎اپوزیشن کے عمران خان کے خلاف کسی بھی اقدام کی سنجیدگی کے لیے ن لیگ کا اس پر قائل ہونا ضروری ہے کہ عدم اعتماد کی صورت میں پیپلز پارٹی کا وزیراعظم اگر آتا ہے تو موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت (یعنی تقریباً مزید ڈیڑھ سال) پوری کریں۔

ن لیگ کے کئی سینیئر رہنما ایسا کرنے کو ایک سنگین غلطی سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی پیپلز پارٹی کو بھرپور سپورٹ دینا پڑے گی اور ساتھ میں ملکی معاشی پالیسیوں کی مکمل ذمہ داری بھی لینی پڑے گی۔

اس کے علاوہ اگر پیپلز پارٹی ڈیڑھ سال کے لیے اپنا وزیراعظم لے آتی ہے تو عام انتخابات میں پارٹی کو پنجاب میں منظم کرنے اور الیکٹ ایبلز کو شامل کروانے کے لیے بہتر پوزیشن میں آجائے گی۔ بھلا ن لیگ اپنے ہوم گراؤنڈ میں کیوں ایسا ہونے دے گی؟

‎ن لیگ عدم اعتماد کے بعد اسمبلیوں کی مدت پوری کرنے پر تیار نہیں تو پیپلز پارٹی صرف تین ماہ کی وزارت عظمی کو اپنے لیے گھاٹے کا سودا سمجھتی ہے۔ پیپلز پارٹی کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں تین ماہ بعد نہ صرف مرکزی بلکہ سندھ حکومت بھی ہاتھ سے چلی جائے گی اور پھر الیکشن مہم میں ن لیگ کا نشانہ پیپلز پارٹی ہی ہو گی۔

باالفاظ دیگر زرداری صاحب سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے پیپلز پارٹی استعمال ہو جائے گی اور آئندہ الیکشن میں پنجاب میں قدم جمانے کا خواب بھی دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔

حکمت عملی کے ‎اس اہم اور بڑے اختلاف کے باوجود زرداری صاحب کا شہباز شریف کی موجودگی میں مریم نواز اور بلاول بھٹو کو اکٹھے بٹھانے کا ایک ہی مقصد سمجھ میں آتا ہے اور وہ یہ کہ عمران خان کو گھر بھجوانے کی خواہش پوری ہو نہ ہو لیکن حکومت پر اگلے چھ سے آٹھ ہفتے اتنا دباؤ بڑھایا جائے کہ عمران خان سنبھل نہ پائیں۔

‎اگلے چار سے چھ ماہ میں کچھ اہم فیصلوں کی شنید ہے اور دباؤ میں رہ کر کوئی بھی وزیراعظم پراعتماد ہو کر اپنی مرضی کے فیصلے کب کر سکتا ہے؟

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے عدم اعتماد کے بعد وزارت عظمیٰ پر اتنے اہم اختلاف پر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مشترکہ اپوزیشن عمران خان کی بجائے پہلا وار سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف کر سکتی ہے اور موجودہ حالات میں یہ خفیہ بیلٹ میں حکومت کے خلاف ایک خطرناک قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

سپیکر کے خلاف بھی ‎اپوزیشن کی ممکنہ عدم اعتماد کی سنجیدگی آئندہ چند روز میں مزید واضح ہو گی جب ایم کیو ایم شہبازشریف اور پرویز الہٰی سے اپنی ملاقاتیں مکمل کر لے۔ لیکن حقیقت میں جب تک مولانا فضل الرحمان اور زرداری صاحب کی ملاقات نہ ہو (جس کی کافی کوششیں کی جا چکی ہیں) تب تک اس اقدام کی سنجیدگی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکے گا۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اعتماد کے فقدان کی ایک اور بڑی وجہ صادق سنجرانی بھی ہیں۔

‎ایک بات جو ن لیگ کے کچھ سینیئر رہنما بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی عمران خان کو واقعی گھر بھجوانا چاہتی ہے تو کیوں نہ سینیٹ سے آغاز کیا جائے کیونکہ اپوزیشن کی سیاست کو سب سے زیادہ نقصان صادق سنجرانی نے پہنچایا ہے اور پھر سینیٹ میں نام نہاد سہی لیکن اکثریت تو ہے ہی اپوزیشن کی۔

‎ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم اور ق لیگ کے بغیر سپیکر یا وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد ممکن نہیں۔ ان دونوں جماعتوں کے حکومت سے گلے شکوے اور اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں لیکن دونوں کو اب تک وہ واضح اشارے نہیں ملے جس سے یہ کہا جا سکے کہ یہ لوگ عمران خان کی کشتی سے چھلانگ لگا لیں گے۔

ایسے میں ان سطور کو تحریر کرتے وقت اپوزیشن کی کنفیوژن کم ضرور ہوئی لیکن فی الحال برقرار ہے، اور عمران خان کے لیے فی الحال ایک ہی خطرہ موجود ہے۔ اور وہ خطرہ ہے ان کے وہ 22 اراکین قومی اسمبلی جس کی اکثریت پنجاب سے ہے۔ گذشتہ کالم میں تحریر کر چکا ہوں کہ یہ لوگ ’اڑان بھرنے کے لیے سیٹ بیلٹ باندھ چکے ہیں۔‘ وہ اپنے حلقوں میں نہیں جا پا رہے اور اگلا الیکشن پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر نہ لڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

عمران خان پہلے ہی نوشتۂ دیوار پڑھنے میں کافی دیر کر چکے ہیں۔ اب انہوں نے عوام سے براہ راست رابطوں کا فیصلہ تو کیا ہے لیکن عوام مہنگائی اور بیڈ گورننس پراٹھائے گئے سوالات کے جوابات چاہتے ہیں۔ جب تک وہ اس جانب توجہ نہ دیں کوئی رابطہ عوام مہم ان کے کام نہیں آسکے گی۔

اگر حالات ایسے ہی رہے تو خفیہ بیلٹ میں ان کے اپنے ارکان اسمبلی کو سنبھالنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہو گا، اور یوسف رضا گیلانی نے جو جھٹکا عمران خان کو حفیظ شیخ کی شکست میں دیا، اسد قیصر اسی جھٹکے کا نیا شکار بن سکتے ہیں۔

فی الحال عمران خان کی وزارت عظمیٰ اپوزیشن کے نئے اکٹھ کے وار سے کچھ فاصلے پر ہے، لیکن سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ کہنا کہ ان کی ’بیساکھیوں‘ کے ہٹنے کی امید بڑھی ہے، اس جانب بھی اشارہ ہے کہ عمران خان کچھ فاصلے پر سہی، لیکن یہ فاصلہ طے بھی ہو سکتا ہے۔

اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں اگر نہ چاہتے ہوئے بیٹھ سکتی ہیں، تو نہ چاہتے ہوئے ان کے اختلافات بھی ’ختم‘ کروائے جا سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔ 

بشکریہ اینڈیپینڈنٹ نیوز

 

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز